30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میری بیٹی کسی نہ کسی طرح اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شریک ہونے پر رِضامند ہو گئی۔ اس نے جب شرکت کی تو اتنیمُتَأَثِّرہوئی کہ بس دعوتِ اسلامی ہی کی ہو کر رہ گئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! ترقّی کی منزِلیں طے کرتے کرتے (تادمِ تحریر) میری بیٹی حلقہ ذِمّہ دار کی حیثِیَّت سے سنّتوں کی خدمتوں میں مشغول ہے۔
گر پڑ کے یہاں پہنچا مَر مَر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الٰہی اب سنگِ درِ جانانہ
(سامانِ بخشِش از مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرےاِجتِماعات میں رَحمتیں کیوں نازِل نہ ہو ں گی کہ ان عاشقاتِ رسول اور آقا کی دیوانیوں میں نہ جانے کتنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مقرب بندیاں ہوتی ہوں گی۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ جلد 24 صَفْحَہ184 پر فرماتے ہیں : جماعت میں بَرَکت ہے اور دُعائے مَجْمَعِ مُسلِمین اَقْرَب بَقَبُول( یعنی مسلمانوں کے مجمع میں دعا مانگنا قبولیت کے قریب تر ہے)۔ عُلَمافرماتے ہیں : جہاں چالیس مُسلمان صالِح(یعنی نیک) جَمع ہوتے ہیں اُن میں سے ایک وَلیُّ اللہ ضرور ہوتا ہے۔(اَلتَّیْسِیْر شرحُ جامعِ الصَّغِیْر حرف الہمزۃ، ج۱، ص۱۱۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دوفرامین مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:(1)اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں مت پیو، بلکہ دو یا تین مرتبہ (سانس لے کر) پیو اور پینے سے قبل بِسْمِ اﷲ پڑھو اور فراغت پراَلْحَمْدُ للہ کہا کرو (تِرمِذی ،ج۳، ص۳۵۲،الحدیث:۱۸۹۲) (2)نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکنے سے منع فرمایاہے ۔ (ابوداوٗد، ج۳،ص ۴۷۴ الحدیث:۳۷۲۸) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : برتن میں سانس لینا جانوروں کا کام ہے نیزسانس کبھی زہریلی ہوتی ہے اِس لیے برتن سےالگ منہ کر کے سانس لو ، (یعنی سانس لیتے وقت گلاس منہ سے ہٹا لو)گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو ، قدرے ٹھنڈی ہو جائے پھر پیو۔ (مراٰۃ ،ج۶ ،ص ۷۷) البتّہ درودِ پاک وغیرہ پڑھ کر بہ نیّتِ شفا پانی پر دم کرنے میں حَرَج نہیں پانی پینے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ پڑھ لیجئے (3) چوس کرچھوٹے چھوٹے گُھونٹ پئیں ، بڑے بڑے گُھونٹ پینے سے جِگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے (4)پانی تین سانس میں پئیں (5)بیٹھ کر اورسیدھے ہاتھ سے پانی نوش کیجئے (6) لَوٹے وغیرہ سے وُضو کیا ہو تو اُس کا بچا ہوا پانی پینا 70 مرض سے شِفا ہے کہ یہ آبِ زم زم شریف کی مُشابَہَت رکھتا ہے، ان دو (یعنی وُضو کا بچا ہوا پانی اورزم زم شریف ) کے عِلاوہ کوئی سابھی پانی کھڑے کھڑے پینا مکروہ ہے۔ (ماخوذاز:فتاوی رضویہ، ج۴،ص۵۷۵، ج ۲۱،ص ۶۶۹)یہ دونوں پا نی قبلہ رُو ہو کر کھڑے کھڑے پئیں (7)پینے سے پہلے دیکھ لیجئے کہ پینے کی شے میں کوئی نقصان دہ چیز وغیرہ تو نہیں ہے (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی،ج ۵، ص ۵۹۴) (8)پی چکنے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہیے (9)حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر پینا شروع کرے پہلی سانس کے آخِر میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دوسرے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن اور تیسرے سانس کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے (اِحیاء الْعُلُوم ، ج۲،ص ۸) خ گلاس میں بچے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابلِ استعمال ہونے کے باوجود خوامخواہ پھینکنا نہ چاہئے (10) منقول ہے:سُؤْرُ الْمُؤمِنِ شِفَاء یعنی مسلمان کے جھوٹے میں شِفا ہے (کشف الخفاء ، ج۱ ۔ص۳۸۴) (11) پی لینے کے چند لمحوں کے بعد خالی گلاس کو دیکھیں گے تو اس کی دیواروں سے بہ کر چند قطرے پیندے میں جمع ہوچکے ہوں گے انہیں بھی پی لیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع