30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامع مجموعہ (اسلامی بہنوں کے لئے) بنام ’’63 مدَنی انعامات‘‘بصورتِ سوالات عطا فرمایا ہے ، چُنانچِہ مدَنی انعام نمبر22 میں ہے: کیا آج آپ نے گھر کے افراد کے عِلاوہ (کپڑے، فون، زیورات وغیرہ) چیزیں دوسروں سے مانگ کر تو اِستِعمال نہیں کیں ؟ یقینا دوسروں سے سوال کرنے سے بچنے والے لوگ ہر ایک کی نگاہ میں قابلِ قدر ٹھہرتے ہیں جیسا کہ شیخ مُصلِحُ الدِّین سَعْدِی شیرازی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے ایک حکایت نقْل کی ہے کہ عرب کے مشہور اور بہت بڑے سخی حاتِم طائی سے کسی نے پوچھا: کیا تو نے اپنے سے زیادہ کسی کو ہمّت وحوصلے والا دیکھا ہے؟ جواب دیا: ہاں ! ایک دن میں نے 40 اُونٹ ذبح کرکے عرب کے مال داروں کو مدعو کیا۔ اس دوران میراگزر ایک جنگل کی طرف سے ہوا دیکھا کہ ایک غریب ومُفلِس شخص جو مجھے نہیں جانتا تھا، لکڑیاں جمع کرنے میں مشغول تھا، میں نے اسے مخاطَب کرتے ہوئے کہا: اے بھلے انسان! حاتم طائی کے گھر شہر بھر کے لوگ جمع ہیں اور دعوت کھا رہے ہیں ، تم اپنی روٹی کے لئے یہاں محنت ومزدوری کر رہے ہو۔ اس غریب لیکن قانع ومعزَّز شخص نے جوا ب دیا: جو اپنی محنت سے روٹی کماتا ہے اسے حاتم طائی جیسے امراکی مِنّت نہیں کرنی پڑتی۔ حاتم طائی نے کہا:’’ حق یہ ہے کہ میں نے اسے اپنے سے زیادہ باہمت وجواں مرد دیکھا۔‘‘(حکایات ِ سَعْدِی(مُتَرْجَم)، ص۱۵۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دعوتِ اسلامی کا مدَنی ماحول ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے کہ اس مدَنی ماحول کے پیغام کو لاکھوں لاکھ اسلامی بہنوں نے بھی قبول کیا، فیشن پرستی سے سَر شار مُعاشَرہ میں پروان چڑھنے والی بے شمار اسلامی بہنیں گناہوں کی دَلدَل سے نکل کر اُمّہاتُ الْمُؤمِنِین اور شہزادیٔ کونَین بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی دیوانیاں بن گئیں اوراپنی سابقہ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو کر نہ صرف خود نیکیاں کرنے والی بلکہ دوسروں کو بھی نیکیوں کی ترغیب دینے میں مشغول ہو گئیں ۔ ترغیب کے لئے ایک ایسی ہی مدَنی بہار مُلاحَظہ کیجئے، چُنانچِہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ308 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’اسلامی بہنوں کی نماز‘‘ صَفْحَہ281 پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک مدَنی بہار تحریر فرماتے ہیں : پنجاب (پاکستان) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لُبِّ لُباب (خُلاصہ) ہے کہ میری بیٹی فلموں ، ڈِراموں اوربے پردگیوں وغیرہ گناہوں کی آلودگیوں میں اپنی زندگی کے قیمتی لمحوں کو برباد کر رہی تھی،میں اس کی حرکتوں سے بے حد پریشان تھی، بارہا
سمجھاتی مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! میں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتی تھی اور اجتماع میں مانگی جانے والی دعاؤں کی قبولِیّت کے واقعات بھی سنا کرتی تھی۔ چُنانچِہ ایک مرتبہ میں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے گیارہویں شریف کے اِجتماعِ ذکرو نعت میں اپنی بیٹی کی اصلاح کے لئے گڑ گڑا کر دُعا مانگی۔ میری خواہش تھی کہ میری بیٹی بھی دعوتِ اسلامی کیمُبَلِّغہ بنے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ ! میری دُعا قبول ہوئی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع