30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{1 }… جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھِلائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بروزِ قیامت جنت کے پھل کھلائے گا اور جو کسی مسلمان کو پیاس میں پانی پلائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بروزِ قِیامت مُہر والی پاک وصاف شراب پلائے گا او ر جو مسلمان کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جنّتکے سبز کپڑے پہنائے گا۔ (جَامِعُ التِّرْمِذِی،کتاب صفۃالقیامۃوالرقائق والورع، ص۵۸۱، الحدیث:۲۴۴۹)
{2}…جو کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھلاکر سیر کر دے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جنّت میں اُس دروازے سے داخِل فرمائے گا جس میں سے اس جیسے لوگ ہی داخِل ہوں گے۔(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیْر لِلطَّبَرَانِی، باب المیم، معاذ بن جبل الانصاری…الخ، ج۸،ص۴۱۸،الحدیث:۱۶۵۸۹)
کھلانے پلانے کی توفیق دے دے
پئے شاہِ کرب و بلا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رحمتِ اِلٰہی کو واجب کرنے والا عمل!
حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبدُ اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرَم، نورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ مُعظَّم ہے: ’’مِنْ مُوْجِبَاتِ الرَّحْمَۃِ اِطْعَامُ الْمُسْلِمِ الْمِسْکِیْنَ یعنی رحمتِ الٰہی کو واجب کردینے والی چیزوں میں سے مسکین مسلمان کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘(اَلتّرْغِیْب وَالتّرْھِیْب،کتاب الصدقات، الترغیب فی اطعام الطعام وسقی الماء۔۔۔الخ، ص۳۲۰، الحدیث:۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ذرا غور کیجئے!
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ان واقعات کے تناظُر میں اگر ہم اپنی حالت پر غور کریں تو اگرچہ اشیائے ضرورت کو بھی خیرات کردینا اوربارِ قرض تلےدب کر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا ہم پر لازم نہیں لیکن کیا ہم ضرورت سے زائد اشیاء کو صدَقہ وخیرات کرنے کاذہن رکھتے ہیں یا مزید کے ہی چکر میں رہتے ہیں ، بچ جانے والا کھانا فریز کرتے ہیں یا خیرات؟ مستحق کو مال سے نوازتے ہیں یا جھڑکیوں سے؟
صحابہ واہلِ بیتِ اَطہار بالخصوص حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ایثار وسخاوت کی طرف نظر کیجئے اوراپنی حالتِ زار کو بھی دیکھئے خود ہی واضح ہو جائے گا کہ ہمارے، اَسلافِ اُمّت سے محبت کے دعوے میں کتنی جان ہے؟ صرف خیرات نہ کرنے کی ہی بات نہیں ، افسوس بالائے افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اَفراد کی ایک ایسی تعداد موجود ہے جو دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے میں تھکتے ہیں نہ شرماتے ہیں ۔ بے مُرُوَّتی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ معمولی سی چیز بھی مانگ مانگ کر اِستِعمال کرتے اور سوال کر کر کے گزارہ کرتے ہیں ۔
شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُرفِتَن دَور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت وطریقت کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع