30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مچھلی مدینۂ منوَّرہزَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں مل گئی، میں نے اُسے بُھون کر خدمتِ سراپا سخاوت میں پیش کر دی ، اتنے میں ایک سائل آگیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : نافِع !یہ مچھلی سائل کو دے دو ۔ میں نے عرْض کی: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس کی بڑی خواہِش تھی اس لیے کوشِش کر کے یہ مدینے کی مچھلی میں نے خریدی ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِسے تناوُل فرمالیجئے، میں اس مچھلی کی قیمت سائل کو دے دیتاہوں ۔ فرمایا: نہیں تم یہ مچھلی ہی اس کو دے دو۔ چُنانچِہ میں نے وہ مدینے کی مچھلی سائل کو دے دی اور پھر پیچھے جاکر اُس سے خریدلی اورآکر حاضِر کردی ۔ ارشاد فرمایا: یہ مچھلی اُسی سائِل کو دے دو اورجو قیمت اُس کو ادا کی ہے وہ بھی اُسی کے پاس رہنے دو۔ میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے: جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُ س خواہِش کو روک کر اپنے اوپر(کسی اور کو) تَرجیح دے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، کتاب کسر الشھوتین، بیان طریق الریاضۃ فی کسر شھوات البطن، ج۳، ص۱۱۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ649 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ صَفْحَہ119پر مبلِّغِ اسلام حضرتِ سیِّدُنا شیخ شعیب حریفیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ننگے پاؤں پیدل بیتاللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو جو بھی کھانا عطا فرماتا اس کو ایثار کر دیتیں ۔ کعبہ مشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں ۔ ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیتُ اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ’’یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو ان سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہو گئے ہیں ۔ ‘‘(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن فی ذکر حجاج بیت اللہ الحرام ،ص۶۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطْبوعہ188 صَفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’ تربیّتِ اولاد ‘‘ صَفْحَہ61پرہے: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں ۔ اس نے ہر ایک کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف اٹھائی تو اس کی دونوں بیٹیاں اس کی بھی خواہش کرنے لگیں تو اس نے وہ کھجور بھی دو ٹکڑے کر کے اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دی۔
مجھے اس واقعہ سے بہت تعجُّب ہوا، میں نے رسولِ اَکرَم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اس عورت کے اِیثار کا بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس(ایثار)کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنّت کو واجب کر دیا۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب البر والصلۃ ،باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۰۱۴، الحدیث:۲۶۳۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع