30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَتُول و فاطِمہ، زَہرا لقَب اِس واسطے پایا
کہ دُنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنّت کی نِگہت([1]) کا
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
2 اَلقابات کی وجہ تسمیہ
{1 }…زھراء ( یعنی جنّت کی کلی)
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمیعَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نام اور لقَب کی وجہ بَیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جَنابِ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولاد، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مُحِبِّیْن کو دوزخ کی آگ سے دُور کیا ہے اِس لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نام ’’فاطِمہ‘‘ ہوا۔ چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دُنْیا میں رہتے ہوئے بھی دُنْیا سے الگ تھیں لہٰذا ’’بَتُول‘‘ لقَب ہوا، ’’زَہراء‘‘ بمعنٰی کلی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجنّت کی کلی تھیں حتّٰی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی کبھی ایسی کیفیت نہ ہوئی جس سے خواتین دو چار ہوتی ہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے جسْم سے جنّت کی خوشبو آتی تھی جسے حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سُونگھا کرتے تھے۔ اِس لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا لقَب ’’زَہراء ‘‘ ہوا۔‘‘ (مِراٰۃُ الْمَنَاجِیْح،کتاب المناقب ،باب مناقب اھل بیت النبی، ج۸، ص۴۵۲، نعیمی کتب خانہ گجرات)
{2 }…طاہِرہ و زاکِیہ
اس کا مطلب ہے: ’’پاک وصاف‘‘۔ چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بچپن ہی سے اپنے بابا جانِ رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظرِ رحمت اور فیضان سے ظاہِری اور باطِنی طہارت و پاکی حاصِل کر چکی تھیں حتّٰی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حیض ونفاس سے بھی مُنَزّہ ومُبَرّا (مُ۔نَز۔زَہ۔ مُ۔بَر۔رَا یعنی پاک صاف) تھیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا علاَّمہ علاء ُ الدِّین علی مُتّقی ہندی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی خاتونِ جنّت کی شانِ عظَمت نشان میں حدیثِ پاک نقْل کرتے ہیں کہ شاہِ ہر دوسرا، مکّی مَدَنی آقا، والدِ ماجدِ زَہراء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’میری بیٹی فاطِمہ انسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض ونِفاس سے پاک ہے۔‘‘(کَنْزُ الْعُمَّال، کتا ب الفضائل، الفصل الثانی فضل اھل البیت مفصَّلًا،ج۶ جز۱۲، ص۵۰، الحدیث:۳۴۲۲۱)
صادِقہ صالِحہ صائمہ صابِرہ صاف دل نیک خُو پارسا شاکِرہ
عابِدہ زاہِدہ ساجِد ہ ذاکِرہ سیِّدہ زاہرہ طیِّبہ طاہِرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1] خوشبو
[2] مذکورہ اَشعار میں بَیَان کردہ مشکل الفاظ کے معانی: صادقہ یعنی سچ بولنے والی صالحہ یعنی نیک۔ صائمہ یعنی روزے رکھنے والی۔ صابرہ یعنی صبر کرنے والی۔نیک خُو یعنی اچھی خصلت والی۔پارسا یعنی نیک۔ شاکرہ یعنی شکر کرنے والی۔ عابدہ یعنی عبادت کرنے والی۔ زاہدہ یعنی دُنیا سے بے رَغبت۔ ساجدہ یعنی سجدے کرنے والی۔ ذاکرہ یعنی ذکر کرنے والی..........طیبہ یعنی پاک وصاف۔ طاہرہ یعنی طہارت والی۔ شہزادیٔ کونین، اُمُّ الْحَسَنَین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جنتی عورتوں کی سردار، خوبصورت کلی کی طرح پاکیزہ طہارت والی ہیں ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ذات حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے راحت ِ جان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع