30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جگر گوشۂ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حیاتِ مبارَکہ اور سیرتِ طیِّبہ کا ہر پہلو بیش بہا کمالات اور اَنمٹ خصوصِیّات کا مظہر ہے۔ دینِ اسلام کی بے لَوث خدمت، نسبی وازدواجی ودینی رشتوں سے بے پناہ محبت اور اولاد کی بہترین تربِیّت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بہترین اَخلاق کا ایک حصّہ ہے۔ اعلیٰ اَقدارِ انسانی کا تحفُّظ، خلقِ خدا کی خیر خواہی، بے کسوں اوربے چاروں کی چارہ گری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نمایاں اَوصاف میں سے ہے۔ اس خیرخواہی،چارہ گری اور فریاد رسی کی ایک جھلک بیان کے ابتدائی واقعہ میں آپ مُلاحَظہ فرما چکی ہیں ۔
ایثار وسخاوت دو وصف ہیں : اپنی ضرورت کے سوا کو خیرات کرنا ’’سخاوت‘‘ اور ضرورت کا بھی خیرات کر دینا ’’ایثار‘‘ کہلاتا ہے۔ دیگر اَوصافِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ ایثار وسخاوت جیسی خوبیوں میں بھی حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایک اِمتِیازی شان ومقام پایا اور جب بھی ان دو خوبیوں کے اظہار کا موقع آیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بساط بھر اس میں حصّہ لیا حتّٰی کہ اپنی ضرورت کا سامان سائلوں کو عطا کیا، منگتوں کا دامن بھرا اور بھوکوں کو کھانا کھلایا، جیسا کہ
خطیبِ پاکستان، واعظِ شیریں بیان حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اکاڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’سفینۂ نُوح‘‘ حصّہ دُوُم، صفْحہ33پر نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہ اِبنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : بنی سُلیم میں سے ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب میں آ کر یوں گستاخی کی: اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! کیا تو وہی جادوگر ہے جس کے متعلِّق مشہور ہے کہ اس کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا، خدا کی قسم! اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری قوم مجھ سے ناراض ہو جائے گی تو میں اس تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔‘‘ یہ گستاخانہ کلام سن کر امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے آگے بڑھ کر اس گستاخ کو سبق سکھانا چاہا مگر حضور رحمۃٌ لِّلعٰلَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روک دیا اور اس شخص سے ارشاد فرمایا: تو آخِرت کے عذاب سے ڈر اور دوزخ سے خوف کھا، بتوں کی پوجا چھوڑ دے اور خدائے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کر ، میں جادوگر نہیں ہوں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُسنِ اَخلاق اور مؤثَّر کلام سے متأثِّر ہو کر وہ بت پرست اسی وقت مسلمان ہو گیا، اب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے عرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! خدا کی قسم! بنوسُلَیم میں 4,000 آدمی ہیں لیکن اس قبیلے میں مجھ سے زیادہ غریب ومسکین کوئی نہیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف دیکھ کر ارشادفرمایا: تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اسے ایک اُونٹ خرید کر دے دے؟ حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے عرْض کی: میرے پاس ایک اُونٹنی ہے وہ میں اسے دے دیتا ہوں ۔پھر ارشادفرمایا: کون ہے جو اس کا سر ڈھانپ دے؟ امیرُ المؤمنین مولیٰ مشکل کشا، حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنا مبارَک عمامہ اُتار کر اس کے سر پر رکھ دیا۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: کون ہے جو اس کے کھانے کا اس وقت اِنتِظام کر دے؟ حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہاُٹھے اور چند مکانوں پر گئے لیکن اِتّفاق سے کچھ نہ ملا۔ پھر نُورِ مصطفٰے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مکان پر حاضر ہو کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پوچھا: کون ہے؟ عرْض کی، سلمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)ہوں ۔ فرمایا:کیسے آئے ہو؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سارا ماجرا سنادیا۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آبدیدہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع