30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صِدِّیق کے لیے ہے خدا کا رَسول بس
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ بات پیشِ نظَر رہے کہ دُنیوِی مال ومتاع اس وقت تک آخِرت کا سامان نہیں بنتا جب تک اسے آخرت کے اِرادے سے خرچ نہ کیا جائے اور کنجوس آدمی نہ بندوں میں نیک نام اورنہ ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول وعزیز ہوتا ہے، کنجوسی باطن کا روگ ہے جو لگ جانے کے بعد کبھی نہیں جاتا اور کنجوس، مال کو کسی نیک کام کے لئے بھی خرچ نہیں کرتا حالانکہاللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور دوسروں کو بھی فائدہ دینا چاہئے یعنی خود بھی کھانا چاہئے اور فقرا وغربا پر خرچ کرکے آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرنا چاہئے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو!خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سخاوت پرمشتمل روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہاللہ والوں کو مال ودولت کی لالچ نہیں ہوتی جبکہ دنیا والوں کو مال ودولت کی حِرص ہوتی ہے۔ جو زاہد مال و دولت کو پسند کرے وہ حقیقت میں زاہد نہیں ۔اللہتعالیٰ کے نیک بندے کھانے پینے اور مال ومتاع کے شیدائی نہیں ہوتے، سخاوت کی عادت بلند اَخلاق کی سَنَد ہے، سخاوت کرنے سے دشمن بھی سر جھکا کر غلام بن جاتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تیسرا اورچوتھا مدَنی پھول: ایثاراور کھانا کھلانا
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے اِبتِدا میں خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ایثار وسخاوت کو مُلاحَظہ کیا اوراس کے ضمن میں اِخلاص و ریاکاری، نذر ومنّت اور سخاوت کے بارے میں اَحادیثِ طیبہ اوراَقوال و اَفعالِ صحابہ وتابعین سے مدَنی پھول چُننے کی خوب کوشِش بھی کی آئیے! اب اِیثار اور کھاناکھلانے کے متعلِّق کچھ مدَنی پھول پیش کئے جاتے ہیں ، چُنانچِہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ44 صفْحات پر مُشْتَمِل رسالے ’’مدینے کی مچھلی‘‘ صَفْحَہ 3 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایثار کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایثار کا معنٰی ہے: ’’دوسروں کی خواہِش اور حاجت کو اپنی خواہِش وحاجت پر ترجیح دینا۔‘‘
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ’’اِحیاءُ العُلُوم‘‘ میں نَقْل فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناموسیٰکلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشادفرمایا: اے موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام)! کوئی شخص ایسا نہیں کہ وہ عمر بھر میں چاہے ایک ہی مرتبہ ایثار کرے اور میں بروزِ قِیامت اُس سے حِساب طلب کرتے ہوئے حیا نہ فرماؤں ، میں اس کو اپنی جنت میں ٹھکانا عطا فرماؤں گا جہاں وہ چاہے گا۔ (اِحیاء الْعُلُوم،کتاب ذم البخل وذم حب المال ،بیا ن الایثار وفضلہ، ج۳، ص۳۱۸ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع