30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجَمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں ، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔
حدیثِ پاک میں بھی اعتِدال میں رہنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی، چُنانچِہ فقیہِ اُمّتِ محبوب حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم، صاحبِ خُلْقِ عظیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ یعنی جو شخص اِعتِدال اِختِیار کرے گا تنگدست نہیں ہو گا۔(شُعَبُ الْاِیْمَان، باب الاقتصاد فی النفقۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۲۵۵، الحدیث:۶۵۶۹)
ایک اور روایت میں رسولوں کے سالار، نبیوں کے تاجدار صَلَّی اللہُتَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مَنِ اقْتَصَدَ اَغْنَاہُ اللہُ، وَمَنْ بَذَّرَ اَفْقَرَہُ اللہُ یعنی جو شخص (اَخراجات میں ) اِعتِدال قائم رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو آدمی ضرورت سے زائد خرچ کرتا ہےاللہ تعالیٰ اسے فقیر کر دیتا ہے۔(کَنْزُ الْعُمَّال،کتاب الاخلاق،الاقتصاد والرفق فی المعیشۃ،ج۲ الجزء الثالث، ص۲۴، الحدیث۵۴۳۴)
ضَرورت سے زیادہ مال ودولت کا نہیں طالِب
رہے بس آپ کی نظرِعنایت یارسولَ اللہ!
(وسائل بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۸۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہاں ! جوشخص توکُّل کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو وہ راہِ خدا میں سارا مال خرچ کر سکتا ہے جیسا کہ
( غزوۂ تَبُوک کے موقَع پر) نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم نے راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ارشادفرمائی۔( محبوبِ رَحمن، شاہِ کون ومکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمانِ رغبت نشان کی تعمیل کرتے ہوئے)صحابۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنا کثیر مال راہِ خدا میں لائے سب سے پہلے صَحابی اِبنِ صَحابی، عاشقِ اکبر حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ اپنا سارا مال چار ہزار درہم لے کر حاضرِ بارگاہ ہو گئے ، نبیِّ مختار، دوعالَم کے تاجدار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (اِ س اِیثار کو دیکھ کر) استِفسارفرمایا: کیا اپنے گھر بار کے لئے بھی کچھ چھوڑا؟ عَرض گزار ہوئے: ’’ان کے لیے میں اللہ اور اُس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں ۔‘‘ (مطلب یہ کہ میرے اور میرے اہل وعیال کے لئے اللہ و رسول کافی ہیں )۔ (سُبُلُ الْھُدٰی وَالرِّشَادْ فِیْ سِیْرَۃِ خَیْرِ الْعِبَاد،الباب الثلاثون فی غزوۃ التبوک۔۔۔الخ، ج۵، ص۴۳۵)
شاعر نے اِس جذبۂ جاں نثاری کو یوں نظْم کیا ہے:
اِ تنے میں وہ رفیقِ نُبُوَّت بھی آگیا جس سے بِنائے عشق ومحبت ہے اُستُوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وَفا سَرِشت ہر چیز جس سے چشْمِ جہاں میں ہو اِعتبار
بولے حُضور، چاہیے فکرِ عِیال بھی کہنے لگا وہ عشق و مَحَبَّت کا راز دار
ہے تجھ سے دِیدۂ مَہ واَنجُم فَروغ گِیر([1]) ہے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
پروانے کو چَراغ ہے بُلبل کو پھول بس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع