30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مسلمان بی بی کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مُبالَغہ کیا کہ حضرتِ سیِّد ِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ترجیح دے دی اور کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سخاوت تو اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنی ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے ، یہ بات مسلمان بی بی کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب صاحبِ فضل و کمال ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جُود و نوال میں کچھ شبہ نہیں لیکن سیِّد ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہودیہ کو حضرتِ سیِّد ِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جُودوکرَم کی آزمائش کرا دی جائے ، چُنانچِہ انہوں نے اپنی چھوٹی بچّی کو حضور عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم کی خدمت میں بھیجا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قمیص مانگ لائے، اس وقت حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیبِ تن تھی وہی اُتار کر عطا فرما دی۔
(تَفْسِیْرِ خَزَائِنُ الْعِرْفَان،پ۱۵،بنی اسرائیل ،تحت الایہ:۲۹، ص۵۳۱)
سخاوت تیرے گھر کی ہے عنایت تیر ے گھر کی ہے
تِرے دَرکا سُوالی جھولیاں بَھر بَھر کے لاتا ہے
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ،ص۳۱۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے سخاوت کے بارے میں اَحادیثِ مبارَکہ اور اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے واقِعات اورآخِر میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سخاوت کے متعلِّق بھی مُلاحَظہ فرمایا۔ سخاوت کرتے وقت یہ بات ذہن نشین رہے کہ اتنا مال خرچ نہ کرے کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے اور لوگوں سے سوال کرنا پڑے۔ لہٰذا خرچ کرنے اور مال روکنے دونوں میں اِعتِدال اور میانہ روی سے کام لینا چاہئے۔
پارہ 15 سُوْرَۂ بَنِیْ اِسْرَائِیْلآیت نمبر29میں ارشادِ ربِّ جلیل ہے:
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہو۔
خلیفۂ اعلیٰ حضرت،صدرُ الافاضِل سیِّد حافظ مفتی محمَّد نعیم ُا لدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’تفسیرِخزائن ُ العِرفان‘‘ میں اس آیَتِ مبارَکہ کے تحت تحریرفرماتے ہیں : یہ تمثیل ہے جس سے اِنفاق یعنی خرچ کرنے میں اِعتِدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اوریہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے، دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا۔ ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے۔ (تفسیر خزائن العرفا ن،پ۱۵، بنی اسرائیل، تحت الایہ:۲۹)
ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) (پ۱۹ الفرقان:۶۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع