30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
:حضرتِ سیِّدُناابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ سب سے پہلے میزانِ عمل میں حُسْنِ خُلْق اور سخاوت رکھی جائے گی، جباللہ تعالیٰ نے ایمان کو پیدا فرمایا تو اس نے عرْض کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے قوّت عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے اسے حُسْنِ خُلْقاور سخاوت سے تقوِیّت بخشی اور جب اللہ تعالیٰ نے کُفر کو پیدا فرمایا تو اس نے عرْض کیا: اے اللہ! مجھے قوّت بخش، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بُخل اور بَدخلقی سے تقو ِیّت بخشی۔(مکاشفۃ القلوب،باب فی فضل حسن الخلق، ص۴۰۸، کوئٹہ)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطْبوعہ412 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’عُیُونُ الحِکایات ‘‘حصّہ اوّلصَفْحَہ110پرذکر کردہ حِکایت کا خُلاصہ ہے: حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن اسود کلابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو اپنے باغ کی دیکھ بھال کے لئے اجیر(یعنی ملازم) رکھا، تقریباً ایک سال بعد میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ باغ میں گیا ایک شخص عمدہ اُونٹ پر سوار ہو کر ہمارے پاس آیا اور اس نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے بارے میں پوچھا،میں نے اسے بتایا کہ’’ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فلاں جگہ موجو د ہیں ۔‘‘ وہ شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس آیا، دست بوسی کی اور نہایت مؤدِّبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا:’’میں ’’بلخ‘‘ شہر سے آیا ہوں ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے چند غلاموں کا اِنتِقال ہو گیا ہے، میں ان کا مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔ یہ تیس ہزار (30,000) درہم آپ کے ہیں انہیں قبول فرما لیں ۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس مال کے تین حصّے کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ایک تمہارے لئے کیونکہ تم سفر کی صعوبتیں اور مُشکِلات بر داشت کر کے یہاں پہنچے ہو، دوسراحصّہ لے جاؤ اور اسے بلخ کے غرباء ومساکین میں تقسیم کر دینا۔
پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف متوجّہ ہوئے جن کے با غ میں آپ بطورِ اجیر (ملازِم) کام کرتے تھے، ان سے فرمایا: ’’یہ ایک حصّہ تم لے لو اور اسے ’’عسقلان‘‘ کے غربا وفقرا میں تقسیم کر دینا۔‘‘ اتنا کہنے کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وہاں سے تشریف لے گئے اور ان تیس ہزار (30,000) دراہم میں سے ایک درہم بھی خود نہ لیا۔(عُیونُ الحکایات، ص۷۱، مُلخَّصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالِک ومُختار، حبیبِ پروَرْدْگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’سخی کا کھانا دوا اور بخیل کا کھانا بیماری ہے۔‘‘ (جمع الجوامع،حرف الطاء،الطاء مع العین، ج۵، ص۱۱۸، الحدیث:۱۳۸۹۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع