30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہنے، ہمیشہ خاموش رہنے، سایہ میں نہ بیٹھنے ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکو ئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذْر مانے وہ سال میں پانچ(5) حرام روزوں (یعنی عید الفطر اور4عید الاضحیٰ یعنی 10,11,12,13ذی الحجہ)کے سوا تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دن روزے نہ رکھنے کی وجہ سے کفّارہ دے۔ (مراٰۃ المناجیح،کتاب الایمان والنذور، باب فی النذور،الفصل الاول، ج۵،ص۲۰۴)
{3}…حضرتِ سیِّدُناجابربن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (فتح مکّہ کے دن) حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہو کر عرْض کی، یارسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے منّت مانی تھی کہ اگراللہ تعالیٰ آپ کے لئے مکہ فتح کرے گا تو میں بیتُ المقدَّس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔ مدینے کے سلطان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’یہیں پڑھ لو۔‘‘ دوبارہ پھر اُس نے وہی سوال کیا، ارشادفرمایا: ’’یہیں پڑھ لو۔‘‘ پھر سوال کا اِعادہ کیاتو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دیا: ’’اب تم جو چاہو کرو۔‘‘ (مشکٰوۃ المصابیح، کتاب الایمان والنذور، باب فی النذور، الفصل الثانی، ج۱، ص۶۳۰، الحدیث:۳۴۴۰)
شارِحِ مشکوٰۃ،حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : خیال رہے کہ مکہ معظمہ کی مسجد کا ثواب بیتُ المقدَّس سے دوگناہے کہ وہاں ایک کا ثواب پچاس ہزار ہے اور حرم شریف میں ایک لاکھ اور مسجد نبوی کاثواب بیتُ المقدَّس کے برابر، مگر مسجدِ نبوی میں نماز کا درجہ زیادہ ہے کہ یہاں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے قُرب ہے اورچونکہ نذْرتھی بیتُ المقدَّس کی اور یہ صاحب ادا کرتے مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی میں جو وہاں سے اعلیٰ ہے لہٰذا بہرحال نذْر پوری ہوجاتی۔ مساجد میں اعلیٰ مسجد ِحرام ہے پھرمسجد ِنبوی پھر مسجد ِقدسی پھر اپنے شہر کی جامع مسجد پھر محلہ کی مسجد پھر گھر کی مسجد ( جائے نماز)۔(مراٰۃ المناجیح،کتاب الایمان والنذور،باب فی النذور،الفصل الثانی، ج۵،ص۲۱۰، ملتقطاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بہارِ شریعت کا مُطالَعہ کیجئے!
نذْر کے بارے میں فقہی مسائل جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطْبوعہ کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 2 صفْحہ 311 تا 318 کا مُطالَعہ کیجئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دوسرا مدَنی پھول : سخاوت
پیاری پیاری اسلامی بہنو! مال کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں سخاوت کرنی چاہئے اور بخل نہیں کرنا چاہئے کہ سچّے مسلمان سخی اور پیکرِ ایثار ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی تکالیف دُور کرنے کی خاطِر اپنی مُشکِلات کی ذرّہ برابر پروا نہیں کرتے جیساکہ آپ نے حدیثِ فاطمہ میں مُلاحَظہ فرمایا کہ وقت اِفطار کے لئے جو تین صاع جَو لائے وہ بجائے اس میں کچھ رکھنے کے سب کے سب سائلین پر یکے بعد دیگرے خیرات کر دیئے اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا یہ اعلیٰ قسم کی سخاوت تھی اور پھر ان کو جس انعام سے نوازا گیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع