30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرح طرح کی ایسی منتیں مانتی ہیں جن کاجواز کسی طرح ثابت نہیں اوّلاً ایسی واہِیات منتوں سے بچیں اور مانی ہو تو پوری نہ کریں اور شریعت کے مُعامَلہ میں اپنے لغو (یعنی فضول) خیالات کو دخل نہ دیں نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوہیں کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کہ پوری نہ کریں گے تو بچہ مر جائے گا، بچہ مرنے والا ہو گا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی۔ منّت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، دُرود شریف، کلمہ شریف، قراٰنِ مجید پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منّت مانو اور اپنے یہاں کے کسی سُنِّی عالِم سے دریافت بھی کرلو کہ یہ منّت ٹھیک ہے یا نہیں ۔
مزید فرماتے ہیں : ’’عَلَم اور تعزیہ بنانے اور پَیک بننے اور محرم میں بچوں کو فقیر بنانے اور(منّت کی)بَدِّھی(یعنی پٹکا یا پھولوں کا ہار یا گلے میں پہننے کا ایک زیور) پہنانے اور مرثیہ کی مجلس([1])کرنے اور تعزیوں پر نیاز دلوانے وغیرہ خرافات (یعنی بیہودہ رسموں ) کی منّت سخت جہالت ہے ایسی منّت ماننی نہ چاہئے اور مانی ہو تو پوری نہ کرے۔‘‘(بہارشریعت،منت کا بیان ،ج۲، حصہ ۹،ص۳۱۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِِ زینب بنتِ جَحْش کی نذْر
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 59 صفْحات پرمُشتمِل اُمَّہاتُ المؤمنین کے فضائل ومناقب پرمُشتمِل ایمان اَفروز کتاب ’’اُمّہاتُ المؤمنین‘‘صفْحہ 43،44 میں ذکر کردہ کلام کا خُلاصہ ہے: جب اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سرکار ابد ِقرار، شفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نکاح کے متعلِّق قراٰنِ پاک کی یہ آیتِ مبارَکہ نازِل ہوئی:
فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا (پ۲۲، الأحزاب:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب زید کی غرَض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی۔
تو حضور پُر نور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسکراتے ہوئے ارشادفرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور اس کو یہ خوشخبری سنائے کہاللہتعالیٰ نے میرا نکاح اس کے ساتھ فرما دیا ہے۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا سلمیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دوڑتی ہوئی حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس پہنچیں اور یہ آیت سنا کر خوشخبری دی۔ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس بشارت سے اس قدَر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اُتار کر اس خادِمہ کو اِنعام میں دے دیا، سجدۂ شکر بجا لائیں اور نذْر مانی کہ 2 ماہ روزہ دار رہوں گی۔ (مَدَارِجُ النُّبُوّت(مترجم)، باب دوم ذکر امھات المؤمنین۔۔۔الخ،ج۲،ص۶۴۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’نذْر‘‘ کے تین حروف کی نسبت سےنذْر کے متعلّق 3 اَحادیثِ مبارَکہ
{1}… اُمُّ المؤمنین زوجۂ سیِّدُالمرسلین سیِّدَہ، عالِمہ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ نُور کے پیکر،اَنبیاء کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع