30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منّت پوری کرنے والوں کی مدح سرائی
اپنی منّت کو پورا کرنا قابلِ تعریف اور ثواب کا کام ہے جیسا کہ امیرُالْمُؤْمِنِیْن حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَـــہ الْکَرِیْم و حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطِمہ اور خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فِضَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضراتِ حَسَنَینِ کریمَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شفایابی پر روزوں کی منّت کو پورا کیا تو ان کی مدح میں اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ نے پارہ29 سُوْرَۃُ الدَّھْر کی آیت نمبر 7 میں ارشاد فرمایا:
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا(۷) (پ۲۹، الدھر:۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُ ا لافاضِل سیِّد حافِظ مفتی محمَّد نعیم ُا لدِّین مُراد آبادی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’تفسیرِ خزائن ُ العِرفان‘‘ میں فرماتے ہیں حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی اور حضرتِ سیِّدُنا طلحہ اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زید اور حضرتِ سیِّدُناحمزہ اور حضرتِ سیِّدُنامُصعب وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے نذر مانی تھی کہ وہ جب رسولِ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم کے ساتھ جہاد کا موقع پائیں گے تو ثابت رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ، ان کی نسبت اس آیت میں اِرشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچا کر دیا۔ (خزائن العرفان، پ۲۱،الاحزاب: تحت الایہ:۲۳،ص۷۷۷) اور حضرتِ سیِّدُناحمزہ ومصعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا شہید ہو گئے ، چُنانچِہ
پارہ 21، سُوْرَۃُ الاَحْزَاب، آیت نمبر 23 میں اِرشادہوتا ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳) (پارہ۲۱، الأحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہداللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منّت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا کہ منّت مانناجائز ہے اورجائز منّت پوری کرنے پر مدح سے بھی نوازا گیا ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کردہ آیتِ مبارَکہ میں مُلاحَظہ فرمایا۔ یہ بھی یا درہے کہ اگر کسی گناہ کی منّت مانی ہو تو اسے ہر گز ہرگز پورا نہ کیا جائے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 1182 صَفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دُوُم صَفْحَہ318 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمّد اَمجد علی اَعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی منّت کے متعلق بَہُت ہی اہم مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے کان ناک چھدوانے اور بچوں کی چوٹیا رکھنے کی منّت مانتی ہیں یا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع