30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں بے نیاز کر دے (یعنی وہ بالِغ ہوجائیں یا ان کا نِکاح ہوجائے یا وہ صاحِب مال ہو جائیں ۔ اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات، ج۴، ص۱۳۲) تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنَّت واجِب فرمادیتاہے۔ یہ ارشاد نبوی سُن کر صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی، اگر کوئی شخص دولڑکیوں کی پروَرِش کرے ؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس کے لئے بھی یِہی اَجر و ثواب ہے یہاں تک کہ اگر لوگ ایک کا ذِکر کرتے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔(شَرْحُ السُّنَّۃِ لِلْبَغْوِی، ج۶، ص۴۵۲، الحدیث:۳۳۵۱ مُلَخَّصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آقا شہزادی کو نماز کے لئے بیدار کرتے
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں : چھ مہینے تک نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ معمول رہاکہ نمازِ فجر کے لئے جاتے ہوئے حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے:’’ اے اہلِ بیت ! نماز، اللہ عَزَّوَجَلَّ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ ‘‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب تفسیر القراٰن، باب ومن سورۃ الاحزاب، ص۷۴۱، الحدیث:۳۲۰۶)
پارہ 16، سورۂ طٰہٰ، آیت نمبر 132 میں ارشادِ ربُّ العُلی ہے:
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ۔
مُفَسِّرِ شہیر، حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی’’تفسیرِ نورُالعرفان‘‘ میں اس آیتِ مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے۔ایک یہ کہ گھر میں رہنے والے تمام لوگ انسان کے اہل کہلاتے ہیں ۔ بیویاں ، اولاد، بھائی، برادر وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ نمازی کامل وہ نہیں جو صرف خود نماز پڑھ لیا کرے بلکہ وہ ہے جو خود بھی نمازی ہو اور اپنے سارے گھر والوں کو نمازی بنا دے۔ تیسرے یہ کہ حکمِ نماز کی نوعیتیں جُداگانہ ہیں ۔ چھوٹے بچوں اور بیوی کو مار کر نماز پڑھائے۔ بھائی برادر کو زبانی حکم دے۔(تفسیر نور العرفان، پ۱۶، طٰہٰ، تحت الاٰیۃ:۱۳۲،ص۳۸۶)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزانہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر جاتے اور اُنہیں نماز کے لئے اُٹھاتے۔ اَسلافِ اُمّت کا بھی یہی معمول تھا۔ آپ بھی کوشش کیجئے کہ نمازِ فجر میں خود بیدار ہو کر اپنے محارم کو بھی بیدار فرمایا کریں ،اگر آپ سے چھوٹے نماز میں سستی کرتے معلوم ہوں توانہیں حسبِ موقع ڈانٹ کر نماز پڑھائیں اور بڑوں کو ادَب کے دائرے میں رہ کر عرْض کریں ۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دعوتِ اسلامی کی برکتوں کے کیا کہنے! اس سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول نے لاکھوں بے نمازیوں کو نمازی بنا دیا، فیشن کے متوالوں کو سنّتوں پر عمل کا ذہن دیا، لند ن، پیرس کے سپنے دیکھنے والوں کو مدینے کا دیوانہ بنایا اور نہ جانے کیسے کیسے بگڑوں کو راہِ راست پر لایا، ایسی ہی ایک مَدَنی بہار مُلاحَظہ کیجئے، چُنانچِہ پنجاب (پاکستان) میں مقیم اسلامی بہن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع