30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد ہے: ’’فاطِمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) تمام اہلِ جنّت یا مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’فاطِمہ میرے بدن کا ایک ٹکڑا ہے جس نے فاطِمہ کو ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘(مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح، کتاب المناقب، باب مناقب اہل بیت النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ج۲، ص۴۳۵۔۴۳۶، الحدیث:۶۱۳۸۔۶۱۳۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ اِبنِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہُمافرماتے ہیں : نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب سفر کا اِرادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات فرماتے اور جب سفرسے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات فرماتے۔(اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکِم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، اذا سافر النبی… الخ، ج۴، ص۱۴۱، الحدیث:۴۷۹۲)
آمدِ مصطفٰے پر اندازِ اِستِقبال
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ، صِدِّیقہ،طیِّبہ،طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب حُضُور پُرنور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کے لئے قیام فرماتیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک ہاتھوں کو تھام کر بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں ۔ (سُنَنُ التِّرْمِذِی، ص۸۷۱، الحدیث:۳۸۷۱ ملتقطاً)
امیرِ اہلسنّت اور اِتِّباعِ سنّت
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اندازِ سفر بھی کچھ اس طرح سے ہے کہ جب آپ سفر کے لئے بیرونِ ملک تشریف لے جاتے ہیں تو اپنی شہزادی سے ملاقات کر کے جاتے ہیں اور جب واپس تشریف لاتے ہیں تو اکثر سب سے پہلے اپنی شہزادی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔اَحادیثِ مبارَکہ میں بیٹی کے بَہُت زیادہ فضائل وارِد ہیں ، چُنانچِہ
’’بیٹی‘‘ کے چار حروف کی نسبت سے 4 فرامینِ مصطفٰے
(1)…جب لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ربِّ ذوالجلال لڑکی کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے خوب برکت پہنچاتا ہے اور کہتا ہے: کمزور سی مخلوق کمزور سے پیدا ہوئی، اس کی نگہداشت کرنے والے کی قیامت تک مدد کی جائے گی۔(اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط، باب الباء، من اسمہ بکر، ج۲، ص۲۲۹، الحدیث:۳۱۰۱)
(2)…جس نے اپنی تین بیٹیوں کی پرورش کی وہ جنَّت میں جائے گا اور اسے راہِ خدا میں اُس جہاد کرنے والے کی مِثل اَجْر ملے گا جس نے دورانِ جہاد روزے رکھے اور نَمازقائم کی۔ (اَلتَّرْغِیْب وَالتَّرْہِیْب، کتاب البر والصلۃ، الترغیب فی کفالۃ الیتیم… الخ ص۸۱۷، الحدیث:۳)
(3)…جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور اُن کے ساتھ اچّھا سُلوک کرے تو داخِلِ جنَّت ہو گا۔ (جَامِعُ التِّرْمِذِی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جآء فی النفقۃ…الخ، ص۴۷۰، الحدیث:۱۹۱۳)
(4)…جو شخص تین بیٹیوں یا بہنوں کی اس طرح پرورش کرے کہ ان کو ادَب سکھائے اور ان پر مہربانی کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع