30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تُوابوجہل بن ہشّام ، عُتبہ بن رَبیعہ، شَیبہ بن ربیعہ، ولید بن عُتبہ، اُمَیّہ بن خَلفاورعُقبہ بن اَبی مُعِیط کو پکڑ ۔ اس حدیثِ پاک کے راوی حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں نے ان کو بدر کے روز مقتول (یعنی قتل شدہ) دیکھا۔ وہ بدر کے کنوئیں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ (صَحِیْحُ الْبُخارِی، کتابُ الصلٰوۃ، بابُ المرأَۃِ تَطْرَحُ عَنِ الْمُصَلِّی شَیْئًا مِنَ الْاَذٰی، ص۱۹۸، الحدیث:۵۲۰)
نہ اُٹھ سکے گا قیامت تلک خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم
جس کو تم نے نظر سے گِرا کے چھوڑ دیا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک مرتبہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْماور حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُالزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ایک فرش پر بٹھا کر ان کی دل جوئی فرمائی ۔ حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْمنے عرْض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو وہ مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یامیں ؟ حضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو ۔
ایک اور ایمان افروز روایت سنئے! حضرتِ سیِّدُنا جمیع بن عمیر تیمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں میں اپنی پُھو پھی کے ساتھ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے عرض کی گئی : حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کون زیا دہ محبوب تھا؟ فرمایا: فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پھر عرض کی گئی : مردوں میں سے ؟ فرمایا! ان کے شوہر ، جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بَہُت روزے رکھنے والے اور کثرت سے قیام کرنے والے ہیں ۔(سُنَنُ التِّرْمِذِی، اَبوابُ المَنَاقِب…الخ، باب فضل فاطمۃ، ص۸۷۲، الحدیث:۳۸۷۷)
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ ہے حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حق گوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ نہ فرمایا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سب سے زیادہ پیاری ’’میں ‘‘تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرتِ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زیادہ پیاری جنابِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھیں پھر ان کے والد۔ معلوم ہوا کہ ان کے دل بالکل پاک و صاف تھے۔ افسوس ان پر جواِن حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن کہتے ہیں ۔ خیال رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبِیّت کی نوعیتیں مختلف ہیں اولاد میں سب سے زیادہ پیاری جنابِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ، بھائیوں میں سب سے زیادہ پیارے علی مرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہہیں اَزواجِ پاک میں بہت پیاری جنابِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ، غرض کہ ایک محبت کے سلسلہ میں جنابِ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت پیاری دوسرے سلسلہ میں حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت پیاری ۔ مقابلہ ایک سلسلہ کے افراد میں ہوتا ہے۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، اہل بیت کے فضائل ج۸، ص۴۶۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع