30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’ بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صفْحہ 752 پر ہے: عورت کو بغیر مَحرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالِغ بچّہ یا مَعتُوہ کے ساتھ بھی سفر نہیں کر سکتی، ہمراہی میں بالغ مَحرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔ (فَتَاوٰی عَالَمْگِیْرِی، کتاب الصلٰوۃ، الباب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر، ج۱، ص۱۵۶،۱۵۷)
بَیَان کردہ مسئلہ میں ’’تین دن کی مسافت‘‘ کا ذکر ہے، خشکی کے سفر میں تین دن کی مسافت سے مراد ساڑھے 57 میل کا فاصلہ ہے۔ (مأْخُوْذ از فَتَاوٰی رَضَوِیَّہ(مُخَرَّجَہ) ج۸، ص۲۷۰)کلومیٹر کے حِساب سے یہ مقدار تقریباً 92 کلومیٹر بنتی ہے۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۱۶۳،۱۶۴ بِتَصَرُّفٍ)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خاتونِ جنّت کی نبیِّ رحمت سے محبّت
سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بچپن ہی سے بے حد صابرو شاکر ، متوکل ، متین ،سنجیدہ اور اطاعت شعار تھیں حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت واُلفت اور خدمت و رفاقت کا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خوب خوب حق ادا کیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذرا سی تکلیف سے بے چین ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک روز ایک نابکار نے راہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سرِ مبارَک پر خاک ڈال دی۔ آپ اسی حالت میں گھر تشریف لے گئے آپ کی صاحبزادی نے دیکھا تو پانی لے کر سر مبارک کو دھونے لگیں اور روتی جاتی تھیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جانِ پدر! اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو بچا لے گا۔‘‘(سیرتِ رسولِ عربی، ص۶۳)
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 32صفْحات پر مشتمل رسالے ’’بُڈھا پُجاری‘‘ صفْحہ28 پرشیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ نقْل فرماتے ہیں : ایک دن حُضور سراپانور صصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکعبۂ معظمہزادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا کے قریب نَماز پڑھ رہے تھے اورکفّارِ قریش ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تم ان کو دیکھ رہے ہو؟پھر بولا:تم میں کون ایسا ہے جوفُلاں قبیلے سے ذَبح کردہ اونٹنی کا بچّہ دان اُٹھا لائے اورجب یہ سَجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے ؟اس پر بدبخت عُقبہ بِن اَبِی مُعِیط اٹھ کر چل دیااور بچّہ دان (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) لاکر رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دونوں مبارَک شانوں کے درمیان رکھ دی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی حال میں رہے اور سرِ مبارَک سَجدے سے نہ اٹھایا اوروہ سب کے سب قَہقَہے مار کر ہنستے رہے ،یہاں تک کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (جن کی عمر اُس وقت بمشکل آٹھ سال تھی) آئیں اورانہوں نے حیببِ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پُشتِ اطہر سے اس گندگی کو اُٹھا کر پھینکا۔ تب سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا سرِاقدس اٹھایا اور اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے دربار میں عرض گزار ہوئے۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ان قُریشیوں کو پکڑ۔ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع