دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shan e khatoon e Jannat | شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

book_icon
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

السادس، ص۳۱۴، الحدیث:۱۷۶۴۵)

نوٹ!!

          اسلامی بہنیں  ناپاکی کے ایام میں  سورۂ نصر وسورۂ کافرون نہیں  پڑھ سکتیں  باقی تینوں  سورتیں  لفظِ قل کے بغیر قراٰن کی نیت کے بغیر بنیتِ دعا وثناء پڑھ سکتی ہیں ۔

          پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کو اپنے محارم کو مدَنی قافلوں  میں  سفر کروانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ راہِ خدا میں  سفر کرنے کا ثواب سنئے ،چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ رسولِ اَکرَم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کا چہرہ راہِ خدا میں  گرد آلود ہوجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ  اسے قیامت کے دن جہنم کے دھوئیں  سے امان عطا فرمائے گا اور جس شخص کے قدَم راہِ خدا میں  گرد آلود ہو جائیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ   اس کے قدموں  کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے محفو ظ فرما دے گا۔‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، ج۴، ص۲۵۰، الحدیث:۷۳۵۵)

          مسافر کو چاہئے کہ وہ دُعا سے غفلت نہ کرے کہ یہ جب تک سفر میں  ہے اس کی دُعا قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں  پہنچتا اس وقت تک دُعا مقبول ہے اسی طرح مظلوم کی دُعا اور ماں  باپ کی اپنی اولاد کے حق میں  دعابھی قبول ہوتی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، سرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تین قسم کی دعائیں  مستجاب (یعنی مقبول)ہیں  ان کی قبولیت میں  کوئی شک نہیں  : (۱)…مظلوم کی دُعا (۲)…مسافر کی دُعا (۳)…باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دُعا۔ (جَامِعُ التِّرْمِذِی، کتاب الدعوات، باب ما ذکر فی دعوۃ المسافر، ص۷۹۳، الحدیث:۳۴۴۸)

          جب کسی مشکل میں  مدد کی ضرورت پڑے تو حدیثِ پاک میں  ہے اس طرح تین بار پکاریں  : ’’اَعِیْنُونِیْ یَا عِبَادَ اللہ یعنی اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو۔‘‘(اَلْحِصْنُ الْحَصِیْن، کتاب ادعیۃ السفر، ص۸۲ ، مُلَخَّصاً)

          سفر سے واپسی پر گھر والوں  کے لئے کوئی تحفہ لے آئیں  کہ یہ سنّتِ مبارَکہ ہے۔ رسولِ اَکرَم، نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: ’’جب سفرسے کوئی واپس آئے تو (گھر والوں  کے لئے) کچھ نہ کچھ ہدیہ لائے، اگرچہ اپنی جھولی میں  پتھر ہی ڈال لائے۔ ‘‘(کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب السفر، قسم الاقوال، ج۳، الجزء السادس، ص۳۰۱، الحدیث:۱۷۵۰۲)

عورت کا تنہا سفر کرنا کیسا؟

          پیاری پیاری اسلامی بہنو! عورت کا شوہر یا مَحرم کے بغیر تنہا تین دن کی مسافت پر واقع کسی جگہ جانا حرام ہے، یہاں  تک کے اگر عورت کے پاس سفرِ حج کے اسباب ہیں  مگر شوہر یا کوئی قابلِ اطمینان مَحرم ساتھ نہیں  تو حج کے لئے بھی نہیں  جا سکتی اگر گئی تو گنہگار ہو گی اگرچہ فرض حج ادا ہو جائے گا۔ البتہ فقہا متأخرین (مُ۔تَ۔اَخ۔خِرِیْن) نے ایک دن کی مسافت پر عورت کے بے مَحرم جانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ (مأخوذ از رَدُّ الْمُحْتَار، کتاب الحج، مطلب فی قولھم یُقَدَّمُ حَقُّ الْعَبْدِالخ  ج۳، ص۵۳۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن