30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تک رات کی پہنچ ہے۔
(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، عُرْوَہ بن رُوَیْم لَخْمِی، ج۹، ص۲۶۴، الحدیث:۱۸۰۴۱)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آئیے! ضمناً کچھ سفر کی سنتیں اور آداب مُلاحَظہ فرمائیے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 696 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’نیک بننے اور بنانے کے طریقے ‘‘ صفْحہ 568 تا 576پر ہے: ممکن ہو تو جمعرات کو سفر کی ابتدا کی جائے کہ جمعرات کو سفر کی ابتدا کرنا سنّت ہے۔(اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات، ج۵، ص۱۶۱) چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے، حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ تبوک کے لئے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جمعرات کو روانہ ہونا پسند فرماتے تھے۔(صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب الجہاد والسیر، بَابُ مَنْ اَرَادَ غَزْوَۃً…الخ، ص۷۶۰، الحدیث:۲۹۵۰)
چلتے وقت عزیزوں ،دوستوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کروائے اور جن سے معافی طلب کی جائے ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں ۔(بَہَارِ شَرِیْعَت، ج۱، حصّہ۶، ص۱۰۵۲، مفہوماً)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: جس کے پاس اس کا بھائی معذرت لے کر آئے تو وہ اس کا عذر قبول کرے، خوا ہ حق پر ہو یا باطلپر، جو ایسانہ کرے وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا۔(اَلْمُسْتَدْرَکْ لِلْحَاکِم، کتاب البر والصلۃ، بروا آباء کم تبرکم ابناؤکم، ج۵، ص۲۱۳،الحدیث:۷۳۴۰ مُلْتَقَطًا)
لباس سفر پہن کر اگر وقت مکروہ نہ ہو تو گھر میں چار رکعت نفل ’’اَلْحَمْد اور قُلْ‘‘ سے پڑھ کر باہر نکلیں ، وہ رکعتیں واپسی تک اہل و مال کی نگہبانی کریں گی۔
سفر پر جانے والے کو چاہئے کہ یہ 5 سورتیں پڑھ لیاکرے ۔
(۱)…قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَآخر تک(۲)…اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُآخر تک (۳)…قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌآخر تک۔ (۴)…قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِآخر تک۔ (۵)…قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ آخر تک۔
سروَرِ عالَم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْــہ سے ارشادفرمایا: ’’ اے جبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! کیا تم چاہتے ہو کہ جب تم سفر میں جاؤ تو اپنے ساتھیوں میں بہتر اور توشۂ سفر میں بڑھ کر رہو (یعنی سفر میں خوشحالی اور فارغُ البالی نصیب ہو)ارشاد فرمایا: یہ 5 سورتیں پڑھ لیا کرو: (۱)…قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَآخر تک(۲)…اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُآخر تک(۳)…قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌآخر تک (۴)…قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِآخر تک اور (۵)…قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ آخرتک۔
ہر سورت کو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سے شروع کرو اور اسی پر ختم کرو (اس طرح ان پانچ سورتوں میں بِسْمِ اللہ 6با ر پڑھی جائے گی) حضرتِ سیِّدُنا جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کو پڑھنا شروع کیا تو میں پورے سفر میں واپسی تک اپنے رُفقاء میں سب سے زیادہ خوشحال اور توشۂ سفر میں فارغ البال رہنے لگا۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب السفر، من قسم الافعال، ج۳ الجزءُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع