30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواجِ مُطَہَّرا ت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جمع تھیں اور ہم میں سے کوئی ایک بھی غیر حاضر نہ تھی، اتنے میں حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وہاں تشریف لائیں ،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا چلنا حضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چلنے سے ذرّہ بھر مختلف نہ تھا۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، ما رَوَتْ عائشۃُ اُمُّ المؤمنین عن فاطمۃَ ،ج۹، ص۳۷۳، الحدیث: ۱۸۴۶۶)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے! حضرتِ سیِّدَ ہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کیسی محبت تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ہر ہر ادا سنّتِ مصطفٰے کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی ابھی آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے چلنے کا اندازحضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چلنے کے اندازکی طرح تھا،ہم بھی اپنے اوپر غور کر لیتی ہیں کہ ہم جب گھر سے نکلتی ہیں تو ہمارا کیا انداز ہوتا ہے؟ جاذبِ نظر بننے کے لئے ہم کس کس طرح کے فیشن اپناتی ہیں ؟ ہمارے چلنے کا انداز کیا ہوتا ہے اور چلنے میں ہم کس کی نقل کرتی ہیں ؟ اسلامی بہنوں کو گھر سے نکلتے وقت کن کن اِحتِیاطوں کی ضرورت ہے مُلاحَظہ فرمائیے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفْحہ268تا 270 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولاناا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :
سُوال: عورت کا بناؤ سِنگھار کرنا،چُست یا باریک لباس پہننا کیسا؟
جواب: گھر کی چار دیواری میں صرف اپنے شوہر کی خاطِر جائز طریقے پر مَیک اَپ کر سکتی ہے۔ باِجازتِ شَرعی مَثَلاً مَحارِم رشتے داروں کے یہاں جانے کےموقع پر گھر سے باہَر نکلنے کیلئے لالی پاؤڈر اور خوشبووغیرہ لگانا اور فیشن کے کپڑے پہن کر مَعَاذَ اللہ غیر مَردوں کے لئے جاذِبِ نظر بننا جیسا کہ آج کل عام رَواج ہے یہ سخت ناجائز و گناہ ہے۔ باریک دوپٹّا جس سے بالوں کی رنگت جَھلکے یا باریک کپڑے کی جُرابیں جِس سے پاؤں کی پنڈلیاں چمکیں یا ایسے چُست لباس میں ملبوس جس میں جسم کے کسی عُضْو مَثَلاً سینے وغیرہ کا اُبھار نُمایاں ہو غیرمَحرْموں کے سامنے آناجانا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک حدیثِ پاک میں یہ بھی ارشادفرمایا: دوزخیوں میں دو قسمیں ایسی ہوں گی جنہیں میں نے (اپنے اِس عَہدِ مبارَک میں ) نہیں دیکھا (یعنی آیندہ پیدا ہونے والی ہیں ) ان میں ایک قسم ان عورَتوں کی ہے جو پہن کر ننگی ہوں گی، دوسروں کو (اپنی حرکتوں کے ذَرِیعے) بہکانے والیاں اور خود بھی بہکی ہوئیں ، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہو ں گے، وہ جنّت میں داخِل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی اور اس کی خوشبو اتنی اتنی دُوری سے پائی جاتی ہے۔(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، بابُ النساء الکاسیات…الخ ، ص۸۴۶،الحدیث:۲۱۲۸، مُلَخَّصاً)
مُفَسّرِ شہیر، حکیم ُ الْا ُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ذکر کردہ حدیثِ پاک کے ان الفاظ ’’جو پہن کر ننگی ہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع