30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اٹھے گا۔ خیال رہے کہ کسی کی سی صورت بنانا تشبُّہ ہے اور کسی کی سی سیرت اختیار کرنا تخلُّق ہے یہاں تشبُّہ فرمایا گیا ہے۔ (المرجع السابق، ج۶، ص۱۰۹)
غرقِ فرعون کے دن سارے فرعونی ڈوب گئے۔ مگر فرعونیوں کا ایک بہروپیا (بَہ۔رُو۔پِ۔یا، نقّال) بچ گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرْض کی:ؒ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! یہ کیوں بچ گیا؟ ارشادفرمایا !اس نے تمہارا روپ بھرا ہوا تھا۔ ہم محبوب کی صورت والے کو بھی عذاب نہیں دیتے۔ مسلمان کو چاہئے کہ نماز و روزہ وغیرہ عبادات میں بھی اچھوں خصوصاً اچھوں سے اچھے یعنی محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نقل کرنے کی نیّت کرے۔ دل لگے یا نہ لگے شکل تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سی بن جاتی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اصل کی برکت سے خدا ہم نقالوں کو بھی بخش دے گا۔ (المرجع السابق، ج۶، ص۱۱۰)
عورتوں کو مردانی وضع بنانا حرام ہے
یاد رکھئے! عورتوں کو مردانی وضع بنانا یعنی مردوں جیسا لباس و جوتے وغیرہ پہننا اسی طرح بال کٹوا کر مردوں کی طرح چھوٹے چھوٹے کر دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہے، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفحات پر مشتمل کتاب ’’پردے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ صفحہ 65 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقْل فرماتے ہیں : رحمتِ عالَمِیّان، سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نِشان ہے: تین شخص کبھی جنّت میں داخِل نہ ہوں گے دَیُّوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شراب نوشی کا عادی۔(مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج۴، ص۵۹۹، الحدیث:۷۷۲۲)
مزید فرماتے ہیں : مَردوں کی طرح بال کٹوانے اور مَردانہ لباس پہننے والیاں اِس حدیثِ پاک سے عبرت حاصِل کریں ، چھوٹی بچّیوں کے لڑکوں جیسے بال بنوانے اور انہیں لڑکوں جیسے کپڑے اور ہَیٹ وغیرہ پہنانے والے بھی احتیاط کریں تا کہ بچی اسی عمر سے اپنے آپ کو مردوں سے ممتاز سمجھے اور ہوش سنبھالنے اور بالِغہ ہونے کے بعد اس کو اپنی عادات و اَطوار شریعت کے مُطابق بنانے میں مشکلات در پیش نہ آئیں ۔ حدیثِ پاک میں یہ جو فرمایا گیا کہ ’’کبھی جنّت میں داخِل نہ ہوں گے۔‘‘ یہاں اِس سے طویل عرصے تک جنّت میں داخِلے سے محرومی مُراد ہے۔ کیوں کہ جو بھی مسلمان اپنے گناہوں کی پاداش میں مَعَاذَ اللہ دوزخ میں جائیں گے وہ بِالآخِر جنّت میں ضَرور داخِل ہوں گے۔ مگر یہ یا د رہے کہ ایک لمحے کا کروڑواں حصّہ بھی جہنَّم کا عذاب کوئی برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا ہمیں ہر گناہ سے بچنے کی ہر دم کوشِش اور جنّتُ الفِردوس میں بے حِساب داخِلےکی دُعا کرتے رَہنا چاہئے۔ (پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۶۵-۶۶)
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک بے پردہ عورت کا عبرت ناک واقعہ بَیَان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : غالِباً شعبانُ الْمُعظَّم ۱۴۱۴ھ کا آخِری جُمُعہ تھا۔ رات کو کورنگی (بابُ المدینہ کراچی)میں مُنْعَقِدہونے والے ایک عظیمُ الشَّان سنَّتوں بھرے اِجتِماع میں ایک نوجوان سے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کی ملاقات ہوئی، اُس نے کچھ اس طرح حلفیہ(یعنی قسم کھا کر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع