30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور نِشَسْت وبرخاست میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔
رسولُ اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا!
کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیرِ نُبُوَّت([1]) کا
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !خاتونِ جنّت، اُمُّ الحَسَنیَن حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عادات اپنے بابا جان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادات جیسی تھیں ۔ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت، آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت جیسی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کردار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتو ں کا آئینہ دار تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی گفتار رسو ل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گفتار جیسی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی نِشَسْت و بَرخاست یعنی اٹھنا بیٹھنا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جیسا تھا۔
(مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ’’مِرْاٰت‘‘ میں فرماتے ہیں :) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے جسم سے جنّت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سونگھا کرتے تھے۔ اس لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا لقب زہرا ہوا۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۸، ص۴۵۳)
بتول و فاطِمہ زَہرا لقَب اس واسطے پایا
کہ دنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنّت کی نِگْہَت کا
(دیوانِ سالک از مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان)
خیال رہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرائرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ، از سر تا قدَم بالکل ہم شکلِ مصطفٰے تھیں ۔ اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے صاحبزادگان میں یہ مُشابَہَت تقسیم کر دی گئی تھی حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ سینے اور سر کے درمیان رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بَہُت مشابہ تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ اس سے نیچے کے حصّہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بَہُت مشابہ تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کی پنڈلی، قدَم شریف اور اِیڑی بالکل حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ تھی۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج۸، ص۴۸۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قدرتی مشابَہت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے جو اپنے کسی عمل کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ کردے تو اس کی بخشش ہو جا تی ہے (جیسا کہ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا،) ’’مَنْ تَشَّبَہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْجو کسی قوم سے مشابہت کرے گا تووہ ان ہی میں سے ہو گا۔‘‘ تو جسے خدا تعالیٰ اپنے محبوب کے مشابہ کرے اس کی محبوبِیّت کا کیا حال ہو گا۔ (المرجع السابق)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ حدیثِ پاک کے تحت شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمّت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : یعنی جو شخص دنیا میں کفار،فاسق و بدکار کے سے لباس پہنے، ان کی سی شکل بنائے کل قیامت میں ان کے ساتھ اُٹھے گا۔ اور جو متقی مسلمانوں کی سی شکل بنائے، ان کا لباس پہنے وہ کل قیامت میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! متقیوں کے زُمرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع