30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے پڑوسیو ں کا خیا ل رکھنا چاہئے، پڑوسیوں کے حقوق بَہُت زیادہ ہیں ، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ اِبنِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلام مجھے پڑوسی کے بارے میں وصِیَّت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وراثت کا حقدار بنا دیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب ،باب الوصاۃ بالجار، ص۱۵۰۰، الحدیث:۶۰۱۵)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرْض کیا، یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں عورت نماز وروزہ، صدَقہ کثرت سے کرتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں کو زبان سے تکلیف بھی پہنچاتی ہے۔ سرکارِ مدینہصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: وہ جہنّم میں ہے۔(مُسْنَد اَحمَد، ج۴، مسند ابی ھریرہ ، ص۶۳۵، الحدیث:۹۹۲۶)
10 چیزیں ظلم سے ہیں
حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :10 چیزیں ظلم میں سے ہیں ۔
(1)…کوئی مرد یا عورت اپنے لئے تو دُعا مانگے مگر اپنے والدین اور عام مؤمنین کے لئے نہ مانگے۔
(2)… جوروزانہ قراٰنِ پاک پڑھے اور 100آیا ت کی تلاوت نہ کرے۔
(3)…جو شخص مسجد میں داخل ہو اور دو رکعت( تَحَیَّۃُ الْمَسْجد) پڑھے بغیر ہی باہر نکل آئے( جبکہ وہ وقت مکروہ نہ ہو)۔
(4)…جو آدمی قبرستان سے گزرے مگر ان پر سلام نہ کرے اور نہ ہی ان کے لیے دعا مانگے۔
(5)… جو شخص جمعہ کے دن شہر آئے پھر جمعہ پڑھے بغیر ہی چلا جائے۔
(6)…جن لوگوں کے محلِّے میں کوئی عالم آئے اور اس کے پا س علم سیکھنے کوئی بھی نہ پہنچے۔
(7)…ایسے دو آدمی جو ایک دوسرے کے رفیق بنے مگر کوئی بھی اپنے دوست کا نام نہ پوچھے۔
(8)…ایسا آدمی جسے کوئی دعوت پر بلائے مگر وہ نہ پہنچے (کوئی مجبوری ہو تو مضائقہ نہیں )۔
(9)…وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی بے کار ضائع کر دی، علم وادَب کچھ نہ سیکھا۔
(10)…ایسا آدمی جو خود شکم سیر ہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہے اور یہ اسے کھانے کو کچھ بھی نہیں دیتا۔ (تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن ، باب حق الجار، ص ۷۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جس نے اپنے مال اور اہل پر خوف کرتے ہوئے پڑوسی پر دروازے کو بند کیا تو وہ مومن نہیں اور وہ شخص بھی مومن نہیں جس کے فتنے سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو، جانتے ہو ہمسایہ کا کیا حق ہے؟ اگر وہ تجھ سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرو، اگر وہ تجھ سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر وہ مفلس ہو جائے تو اس کی حاجت روائی کرو، اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو، اگر کوئی خوشی حاصل ہو تو اسے مبارکباد دو، اگر مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع