30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب جانچو کہ تم مالِک علی الاطلاق عَزَّوَجَلَّ کے کتنے اَحکام بجالاتے ہو۔ اس کا حکم بجا نہ لانا اور اپنی درخواست کا خواہی نخواہی (یعنی زبردستی ؍ناچار) قبول چاہنا کیسی بے حَیَائی ہے، او احمق! پھر فرق دیکھ اپنے سر سے پاؤں تک، نظرِ غور کر، ایک ایک روئیں میں ہر وقت ہر آن کتنی کتنی ہزار در ہزار صد ہزار بے شمار نعمتیں ہیں ، تو سوتا ہے اور اس کے معصوم بندے (یعنی فِرِشتے) تیری حفاظت کو پہرا دے رہے ہیں ، تو گناہ کر رہا ہے اور سر سے پاؤں تک صحّت وعافیت، بلاؤں سے حفاظت، کھانے کا ہضم، فُضلات کا دفع، خون کی روانی، اعضاء میں طاقت، آنکھوں میں روشنی، بے حِساب کرم بے مانگے بے چاہے تجھ پر اتر رہے ہیں ، پھر اگر تیری بعض خواہشیں عطا نہ ہوں کس منہ سے شکایت کرتا ہے، توکیا جانے کہ تیرے لیے بھلائی کا ہے میں ہے، تو کیا جانے کہ کیسی سخت بلا آنے والی تھی کہ اس دُعا نے دفع کی، تو کیا جانے کہ اس دعا کے عوض کیسا ثواب تیرے لیے ذخیرہ ہورہا ہے، اس کا وعدہ سچا ہے، اور قبول کی یہ تینوں صورتیں ہیں (جو پیچھے گزر چکیں ) جن میں ہر پہلی پچھلی سے اعلیٰ ہے۔ ہاں ! بے اِعتِقادی آئی تو یقین جان کہ مارا گیا اور ابلیس لعین نے تجھے اپنا سا کر لیا۔ والعیاذ باللہ سبحٰنہ وتعالٰی۔(فَضَائِلِ دُعا، ص۱۰۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیر ت سے ہمیں یہ مدَنی پھول بھی چُننے کو ملا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہمسایوں کے لیے زیادہ دُعا فرمایا کرتیں اور فرماتیں : پہلے ہمسایہ ہے پھر گھر۔ ایک ہم نادان ہیں کہ ہمسایوں کا ہمیں خیال تک نہیں ۔ ہم اپنے گھر میں طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں ،عمدہ عمدہ ملبوسات پہنتے ہیں اور ہم میں سے بعضوں کے ہمسایوں کو یہ چیزیں میسَّر نہیں ہوتیں اور ہمیں ان کا خیال تک نہیں آتا اور اگر وہ کسی چیز کا سوال کریں تو ہم پھر بھی نہیں دیتے۔
مُفسِّرِ شَہیر، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی پارہ30 سُوْرَۃُ الْمَاعُوْن، آیت نمبر7، ’’وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُوْنَ0 ترجمۂ کنزالایمان: اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔‘‘ کے تحت ’’تفسیرِ نورُ العِرفان‘‘ میں جو کچھ فرماتے ہیں ، اس کا خُلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ معمولی برتنے کی چیزوں کو ماعون کہا جاتا ہے، جیسے سوئی، نمک، آگ، پانی وغیرہ یعنی منافقین کی عبادتیں بھی خراب ہیں اور معاملات بھی گندے کہ اپنے پڑوسیوں کو معمولی برتنے کی چیزیں عاریتہ بھی نہیں دیتے، آگ، پانی، نمک پر ان کی جان نکلتی ہے، یا یہ لوگ اپنی ضرورت سے بچی چیزیں جو ان کے لیے بے کار ہیں ، کسی کونہیں دیتے، اگر چہ خراب ہی ہو جاویں ، اس آیت سے وہ زمیندار عبرت پکڑیں جو اپنا فالتو غلّہ بازار میں نہیں لاتے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ عاریتہ کسی کو کوئی چیز نہ دینا منافقین کے کام ہیں ۔ مسلمانوں کو تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع