دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shan e khatoon e Jannat | شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

book_icon
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

’’نہ جانے ایسا کون سا گُناہ ہوگیا ہے جس کی مجھے سزا مِل رہی ہے۔‘‘

نماز نہ پڑھنا تو گویاکوئی خطا ہی نہیں  !!!

          اس طرح کی’’ بَھڑاس ‘‘نِکالنے والیوں  سے اگر دَریافت کیا جائے کہ بہن! آپ نَماز تَو پڑھتی ہی ہوں  گی؟تَو شاید جواب ملے، ’’جی نہیں ۔ ‘‘دیکھا آپ نے !زبان پر تَو بے ساختہ جاری ہورہا ہے،’’نہ جانے کیا خَطا ہم سے ایسی ہوئیہے؟جس کی ہم کو سزا مِل رہی ہے!‘‘اور نَماز کے معاملے میں  اِن کی غَفلت تَو اِنہیں  نظر ہی نہیں  آ رہی! گویا نَماز نہ پڑھنا تَو (مَعَاذَ اللہ) کوئی گُناہ ہی نہیں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تُوْبُوْا اِلَی اللہ!            اَسْتَغْفِرُ اللہ    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قبولِیّتِ دُعا میں  جلدی نہ کرے!

          پیاری پیاری اسلامی بہنو! دُعا کی قبولِیّت میں  جلدی نہیں  مچانی چاہئے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 318 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’فضائلِ دُعا‘‘ صفْحہ97 پر رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان دُعا کے آداب اور قبولِیّت کے اسباب ذکر کرتے ہوئے 48واں  ادَب یہ بیان فرماتے ہیں  : ’’دُعا کی قبولِیّت میں  جلدی نہ کرے‘‘ اس ادَب کے تحت سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمنَّان فرماتے ہیں  : سگانِ دنیاکے اُمیدواروں  کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک اُمیدواری میں  گزارتے ہیں  ، صبح وشام ان کے دروازوں  پر دوڑتے ہیں  اور وہ ہیں  کہ رُخ نہیں  ملاتے، دل تنگ ہوتے ہیں  ، ناک بھَوں  چڑھاتے ہیں  ، مگر یہ نہ امید توڑیں  نہ پیچھا چھوڑیں  اور اَحْکَمُ الْحاکِمِین، اَکرَمُ الْاَکرَمِیْن عَزَّ جَلَالُہکے دروازے پر اوّل تو آتا ہی کون ہے اور آئے بھی تو اُکتاتے، گھبراتے، کل کا ہوتا آج ہو جائے، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا کچھ اثر نہ ہوا، یہ احمق اپنے لیے اِجابت (قبولِیّت) کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں ۔ رسولاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : ’’تمہاری دُعا قبول ہوتی ہے جب تک جلدی نہ کرو کہ میں  نے دعا کی تھی، قبول نہ ہوئی۔‘‘(سنن الترمذی ، احادیث شتیٰ، باب فی الاستعاذۃ، ص۸۲۳، الحدیث:۳۶۰۸)

          اورپھر بعض تو اس پر ایسے جامے سے باہر ہو جاتے ہیں  کہ اعمال واَدعیّہ (یعنی وظائف ودعاؤں  ) کے اَثَر سے بے اِعتِقاد بلکہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) کے وعدہ وکرَم سے بے اِعتِماد۔والعیاذ بااللہ الکریم الجواد

          ایسوں  سے کہا جائے کہ اے بے حَیَا! بے شرمو! ذرا اپنے گریبان میں  منہ ڈالو، اگر کوئی تمہار ا برابر والا دوست تم سے ہزار بار کچھ کام اپنے کہے اور تم اس کا ایک کام نہ کرو، تو اپنا کام اس سے کہتے ہوئے اوّل تو آپ لجاؤ (یعنی شرماؤ) گے کہ ہم نے تو اس کا کہنا کیا ہی نہیں  اب کس منہ سے اس سے کام کو کہیں  اور اگر ’’غرض دیوانی ہوتی ہے‘‘ کہہ بھی دیا اوراس نے نہ کیا تو اصلاً (یعنی بالکل بھی) محلِّ شکایت نہ جانوگے کہ ہم نے کب کیا تھا جو وہ کرتا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن