دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shan e khatoon e Jannat | شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

book_icon
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

خاتونِ جنّت کی دُعائیں

          حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  :میں  نے بعض مرتبہ اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو شام سے صبح تک عبادت وریاضت اوراللہ تعالیٰ کے آگے گریہ وزاری اورنہایت عاجزی سے التجا ودُعا کرتے دیکھا ہے مگر میں  نے کبھی یہ نہیں  دیکھا کہ دُعا میں  اپنے واسطے کوئی درخواست کی ہو بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی تمام دعائیں  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کی بخشش اوربھلائی کے لئے ہوتیں ۔ (المرجع السّابق)

          شیخِ محقِّق حضرتِ علاَّمہ عبدُ الحق محدِّثِ دہلوی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’مَدارِجُ النُّبُوَّہ‘‘ میں  فرماتے ہیں  ، امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  کہ میں  نے اپنی والدۂ ماجِدہ سیِّدَہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے حق میں  بہت زیادہ دعائیں  کرتے دیکھا، انہوں  نے اپنی ذات کے لیے کوئی دعا نہ مانگی۔ میں  نے عرض کیا :’’اے مادرِ مہربان ! کیا سبب ہے کہ آپ اپنے لیے کوئی دعا نہیں  مانگتیں  ؟ فرمایا : اے فرزند ! اَلْجَوَارُ ثُمَّ الدَّار یعنی پہلے ہمسایہ ہیں  پھر گھر۔ (مَدَارِجُ النُّبُوَّۃ(مترجم)، قسم پنجم ، باب اول در ذکر اولاد کرام ، ج۲، ص۶۲۴)

          پیاری پیاری اسلامی بہنو! سیرتِ فاطمہ پر ہمارے دل وجان قربان! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو اُمّتِ مُسلِمہ کا کس قدَر درد تھا کہ ہم ناتوانوں  کے لئے بعض اَوقات ساری ساری رات دعائیں  مانگتی رہتیں  اور اپنی سہولت وآسائش کے لئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں  کبھی مُلتجِی نہ ہوتیں  حالانکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر میں  اکثرو بیشتر فاقہ رہتا، مکمل تن ڈھانپنے کے لئے کپڑاتک نہ ہوتا لیکن خداتعالیٰ کی بارگاہ میں  توکُّل اس درجے کا تھا کہ کبھی بھی دنیا کی فانی نعمتوں  کے متعلِّق سوال تک نہ کیا۔

          ہمیں  بھی اپنے ربِّ کریم کی بارگاہ میں  مسلمان بھائیوں  اور بہنوں  کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہئے کہ مسلمان کی دُعا مسلمان کے لئے اس کی غیر موجودگی میں  بہت جلد قبول ہوتی ہے نیز دُعا کی قبولِیَّت کے سلسلے میں  کسی کے حق میں  دوسروں  کا دُعا کرنا خود اس کے اپنے حق میں  دُعا کرنے سے بہتر ہے ،چُنانچِہ منقول ہے کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خطاب ہوا: اے موسیٰ! مجھ سے اس منہ کے ساتھ دُعا مانگ جس سے تو نے گناہ نہ کیا۔ عرض کی: الٰہی! وہ منہ کہاں  سے لاؤں  ؟(یہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقینا ہر گناہ سے معصوم ہیں  )  فرمایا: اَوروں  سے دُعا کروا، کہ ان کے منہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔(مَثْنَوِی مولانا رُوم(مترجم)، دفتر سوم، ص۲۴۵)

          امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  مدینہ منوَّرہ کے بچوں  سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر بخشا جائے۔(فَضَائِلِ دُعا، ص۱۱۲)

دُعا کے 3 فوائد

          اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:بندے کی دُعا تین باتوں  سے خالی نہیں  ہوتی:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن