30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ دونوں عبادت کی جگہ کھڑے ہو کر ربّ ِقدیرعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے لگے۔ (اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والاربعون فی ازواج علی بفاطمۃ۔۔۔الخ، ص۲۷۸،ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! مذکورہ بالا الفاظ’’ آپتو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں ‘‘ بہت اَہَمِّیَّتکے حامل ہیں ۔ اس پر اسلامی بہنوں کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں اپنے ’’بچوں کے ابّو‘‘ کا کتنا احترام ہے اور وہ اپنے ’’بچوں کے ابّو‘‘ کے کتنے حُقُوق اداکرتی اور ان کی رضا کے لیے کیا کیا کوششیں کرتی ہیں ۔ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں سیِّدِی اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے بیان کردہ حقوق کا مفہوم پیشِ خدمت ہے: شوہر و بی بی کے متعلِّقہ اُمور میں مطلقاً شوہر کی اطاعت یہاں تک کے ان اُمور میں شوہر کی اِطاعت والدین کی اِطاعت پر بھی مقدَّم ہے، شوہر کی عزّت اور مال کی حفاظت ، ہر بات میں اس کی خیرخواہی، ہر وقت جائز کاموں میں اس کی رضا کا طالب رہنا، اُسے اپنا مولیٰ جاننا اور نام لے کر نہ پکارنا، کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا اور خدا توفیق دے تو دُرست شکایت سے بھی بچنا، اس کی اجازت کے بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں نہ جانا(یعنی شوہر کی اجازت کے بغیر جانا پڑ جائے تو صرف محارم یعنی ماں باپ کے یہاں ہر آٹھویں دن اور وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں ، خالہ، پھوپھی کے یہاں سال بھر بعد جاسکتی ہے اور بلا اجازتِ شوہر رات کو کہیں بھی نہیں جا سکتی۔(فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص۳۸۰ملخصاً) اور اگر وہ ناراض ہو تو اس کی انتہائی خوشامد کر کے اسے منانا ، اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میراہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے یہاں تک کہ تم راضی ہو، یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔(فتاوٰی رضویہ، ج۲۴، ص۳۷۱، ملخصاً)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکے مطْبوعہ 86 صفْحات پر مُشْتَمِل رسالے ’’سنّتِ نکاح‘‘میں سے بھی ایک حدیثِ مبارک مُلاحَظہ فرمالیجئے! چُنانچِہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر قدَم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کچَ لہو بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حقِّ شوہر ادا نہ کیا۔‘‘(مُسْنَدِ اَحْمَد، مسند انس بن ماالک، ج۵، ص۴۴۵، الحدیث:۱۲۹۴۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم فرماتے ہیں کہ سیِّدَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قراٰنِ پاک کی تلاوت جاری رکھتیں ، نبیِّ کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم جب نماز کے لئے تشریف لاتے اور راستے میں سیِّدَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مکان پر سے گزرتے اور گھر سے چکی کے چلنے کی آواز سنتے تو نہایت دردومحبّت کے ساتھ بارگاہِ ربُّ العزَّت میں دُعا کرتے: یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو ریاضت وقناعت کی جزائے خیر عطا فرما اور اسے حالت ِ فقر میں ثابت قدَم رہنے کی توفیق عطا فرما۔(سفینۂ نوح، حصّہ دُوُم، ص۳۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع