30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے سیِّدَہ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضِر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ حضراتِ حَسَنَینِ کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سو رہے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان کو پنکھا جھل رہی تھیں اور زبان سے کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی یہ دیکھ کر مجھ پر ایک خاص حالتِ رِقّت طاری ہوئی۔ (سفینۂ نوح، حصّہ دُوُم، ص۳۵)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو تلاوت کرنے کا کس قدَر ذَوق تھا کہ اپنی گھریلو مصروفِیّت کے دوران زبان سے تلاوتِ قراٰن کا وِرْد بھی جاری رکھتیں جبکہ ہماری مصروفِیّت کے دوران گانوں باجوں اور موسیقی کا شوروغل جاری رہتا ہے جس کی نحوست سے گناہوں کا میٹر چلتا رہتا ہے اے کاش! سب اسلامی بہنوں کا یہ مدَنی ذہن بن جائے کہ گھریلو کام کاج میں مشغولِیّت کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو ذکرواَذکار سے تر رکھیں اس سے نہ صرف اپنی نیکیوں میں اِضافہ ہو گا بلکہ اولاد بھی اس سے مُستَفِید ہو گی، جیساکہ
شکمِ مادَرمیں ہی18پارے یاد کر لئے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ26 صفْحات پر مُشْتَمِل رسالے ’’منّے کی لاش ‘‘ صَفْحَہ5پرشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں : (حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) پانچ برس کی عمر میں جب پہلی بار بِسْمِ اللہ پڑھنے کی رسم کے لئے کسی بُزُرگ کے پاس بیٹھے تو اَعُوْذ اور بِسْمِ اللہ پڑھ کر سُوْرَۂ فاتِحہ اور الٓمّٓ سے لے کر 18 پارے پڑھ کر سنا دئیے۔ اُس بُزُرگ نے کہا، بیٹے اور پڑھئے! فرمایا، بس مجھے اتنا ہی یادہے کیوں کہ میری ماں کو بھی اتنا ہی یاد تھا۔ جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا اُس وَقْت وہ پڑھا کرتی تھیں ۔ میں نے سن کر یاد کر لیا تھا۔
قراٰنِ مجید، فُرقانِ حمید اللہُربُّ الانام عَزَّوَجَلَّ کامبارَک کلام ہے ،اِس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قراٰنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے پر 10 نیکیاں ملتی ہیں ، چُنانچِہ خاتَمُ الْمُرْسَلِین، شفیعُ الْمُذْنِبِیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے: ’’جو شخص کتابُ اللہ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس(10) کے برابر ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا الٓـمّٓ ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف، لام ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔‘‘(سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب فضائل القران،باب ماجاء فی من قرأ حرفاً من القراٰن، ص۶۷۶، الحدیث:۲۹۱۰)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 868 صفْحات پر مُشتمِل کتاب ’’اِصلاحِ اَعمال ‘‘ جلد اوّل صفْحہ277 پر عارِف باللہ، ناصِحُ الاُمّہ حضرتِ علّامہ عبدالغنی بن اسماعیل نابُلُسی حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاس حدیثِ پاک کو نقْل کرکے فرماتے ہیں :اگرہم اس ’’الٓمّ‘‘ کے ہر حرف یعنی ’’اَلِف،لَام اورمِیْم کو مزید پھیلا نے کا اعتبارکریں توان تینوں کے اپنے حروف 9 بنیں گے تو یوں تمام کے مجموعے کے برابر 90 نیکیاں ہوں گی۔
تِلاوت کی توفیق دے دے الٰہی!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع