30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مہربان رحم والایہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہواور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو۔ بولی: اے سردارو! میرے اس معاملہ میں مجھے رائے دو، میں کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔ وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے بولی: بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے پھر جب وہ سلیمان کے پاس آیا سلیمان نے فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے سلیمان نے فرمایا: اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکرحاضر ہوں ایک بڑا خبیث جنّ بولا: میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوّت والا، امانتدار ہوں ۔ اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا: یہ میرے ربّ کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا ربّ بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔
{2}… اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵) فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ-وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ-وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶) فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًاۙ-وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ-كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)(پ۳، اٰ لِ عِمْرٰن:۳۵ تا ۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے ربّ میرے! میں تیرے لئے منّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تُو مجھ سے قبول کرلے بے شک تو ہی ہے سنتا جانتا پھر جب اُسے جنا بولی باے ربّ میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھوہ جنی اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھااور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے تو اسے اس کے ربّ نے اچھی طرح قبول کیااور اُسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہااے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا۔ بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عُلَمَائے کِرام و اَکابِرینِ اسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِس پر اِتِّفاق ہے کہ تمام صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن ’’اَفْضَلُ الاولیاء‘‘ ہیں ، قیامت تک کے تمام اَولیاء ُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہ اگرچِہ دَرَجۂ وِلایَت کی بلند ترین منزِل پر فائز ہو جائیں مگر ہرگز ہرگز وہ کسی صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کمالاتِ وِلایَت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ رسالت، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلاموں کو وِلایت کا وہ بلند وبالا مَقام عطافرمایا اوراِن مُقدَّس ہستیوں رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کوایسی ایسی عظیم ُ الشّان کرامتوں یعنی بُزرگیوں سے سرفَراز فرمایا کہ دوسرے تمام اولیائے کِرام رَحِمَہُمُاللہُ السَّلَام کے لئے اِس معراجِ کَمال کا تَصَوُّر بھی نہیں کیا جا سکتا، اِس میں شک نہیں کہ حَضَراتِ صَحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیِْھمْ اَجْمَعِیْن سے اِس قدَر زیادہ کرامتوں کا تذکرہ نہیں ملتا جس قدَر کہ دوسرے اولیاءے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے کرامتیں منقول ہیں ۔ یہ واضِح رہے کہ کثرتِ کرامت، اَفضَلِیّتِ وِلایَت کی دلیل نہیں کیونکہ وِلایَت دَرحقیقت قُربِ بارگاہِ اَحدِیَّت کا نام ہے اور یہ قربِ الٰہی جس کو جس قدَر زیادہ حاصِل ہو گا اُسی قدَر اُس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع