30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اہلِ سنّت کا مُتّفِقہ عقیدہ ہے کہ صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اوراولیاءے عُظَام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامتیں حق ہیں اور ہر زمانے میں اللہ والوں کی کرامات کا صُدور وظُہورہوتارہا اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! قیامت تک کبھی بھی اِس کا سِلسِلہ مُنقطِع (مُن۔قَ۔طِع یعنی ختم) نہیں ہوگا، بلکہ ہمیشہ اولیاءاللہ رَحِمَہُمُ اللہ سے کَرامات صادِر وظاہِر ہوتی رہیں گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1250 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ58پرصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کرامت کی تعریف کچھ اس طرح بَیان فرماتے ہیں : ’’ولی سے جو بات خلافِ عادت صادِر ہو اُس کو کرامت کہتے ہیں ۔‘‘
قرآن وسنّت میں کئی مقامات پر اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامات کا ثبوت ملتا ہے اس سلسلے میں دو قرآنی واقعات پیش کئے جاتے ہیں :
{1}… وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ(۲۲)اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ(۲۳) وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ(۲۴) اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِ جُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ(۲۵) اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩(۲۶) قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(۲۷) اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ(۲۸) قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ(۲۹) اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۳۰) اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠(۳۱) قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْۚ-مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ(۳۲) قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ ﳔ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ(۳۳) قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ-وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ(۳۴) وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ(۳۵)فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ٘-فَمَاۤ اٰتٰىنِﰯ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْۚ-بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ(۳۶) اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ(۳۷) قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(۳۸) قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ(۳۹) قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(۴۰) (پ۱۹، اَلنَّمْل:۲۲تا۴۰) ترجمۂ کنز الایمان: (ہُدہُد نے کہا)اور میں شہرِ سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان پر بادشاہی کررہی ہے اور اُسے ہر چیز میں سے ملا ہے اور اس کا بڑا تخت ہے میں نے اُسے اور اُس کی قوم کو پایا کہ اللہکو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اَعمال ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ راہ نہیں پاتے۔کیوں نہیں سجدہ کرتےاللہ کو جو نکالتا ہے۔آسمانوں اور زمین کی چُھپی چیزیں اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو،اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچّا معبود نہیں ، وہ بڑے عرش کا مالک ہے سلیمان نے فرمایا: اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے، میرا یہ فرمان لے جا کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزّت والا خط ڈالا گیا،بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہاللہ کے نام سے ہے جو نہایت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع