30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو چھپا ہوا ہے) سے اِنتِظام فرما۔‘‘
یہ دُعا مانگ کر حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ہانڈیوں کو چولہوں پر چڑھا دیا۔ خداوند تعالیٰ کا دَرْیائے کرَم ایک دم جوش میں آگیا اوراس رَزَّاقِ مُطلَق (بغیر کسی قید کے رزق عطا فرمانے والے) نے دَم زدَن میں (یعنی فوراً) ان ہانڈیوں کو جنّت کے کھانوں سے بھر دیا۔
حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ان ہانڈیوں میں سے کھانانکالنا شروع کردیا اور حُضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ کھانا کھانے سے فارِغ ہوگئے لیکن خدا عَزَّوَجَلَّ کی شان کہ ہانڈیوں میں سے کھانا کچھ بھی کم نہیں ہوا اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کھانوں کی خوشبو اور لذّت سے حیران رہ گئے۔ حُضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو مُتَحَیَّر (مُ۔تَ۔حَیْ۔یَر۔یعنی حیران) دیکھ کر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہوکہ یہ کھانا کہاں سے آیاہے؟ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرْض کیا: نہیں ، یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: یہ کھانا اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے لئے جنّت سے بھیج دیاہے۔
پھر حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا گوشۂ تنہائی میں جاکر سجدہ ریز ہو گئیں اور یہ دُعا مانگنے لگیں : یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدَم کے عِوَض ایک ایک غلام آزاد کیا ہے لیکن تیری بندی فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو اتنی اِستِطاعت نہیں ہے لہٰذا اے خدا وند ِعالَمعَزَّوَجَلَّ ! جہاں تو نے میری خاطِر جنّت سے کھانابھیج کر میری لاج رکھ لی ہے وہاں تو میری خاطِر اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان قدَموں کے برابر جتنے قدَم چل کر میرے گھر تشریف لائے ہیں ، اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے گنہگاربندوں کو جہنّم سے آزاد فرما دے ۔
حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا جُوں ہی اس دعا سے فارِغ ہوئیں ایک دم ناگہاں (یعنی اچانک) حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلام یہ بِشارت لے کر بارگاہِ رِسالت میں اُتر پڑے کہ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو گئی،اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ ہم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر قدَم کے بدلے میں ایک ایک ہزار1000 گنہگاروں کو جہنّم سے آزاد کر دیا۔ (جامِعُ الْمُعْجِزات(مصری)، ص۶۵، بحوالہ سچّی حکایات)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ رِوایت محبوبِ ربُّ العزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عِلْمِیَّت، حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے جذبۂ سخاوت اور مَلکۂ جنّت کی عظَمت وکرامت کی بیِّن(یعنی واضح) دلیل ہے۔ نبیِّ غیب داں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہچان لیا کہ یہ آج کی دعوت کا کھاناکہاں سے آیا، حضرتِ سیِّدُنا عثمان ذُوا لنُّورَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے اپنے دولت کدہ (یعنی مکانِ عالیشان) کی طرف بڑھنے والے ہر قدَمِ نبی پر غلام آزاد کئے، اور اللہ ُ مُعْطِی عَزَّوَجَلَّ نے بنتِ رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنے مہمانوں کی میزبانی کے لئے جنّت کا کھانا بھیج کر اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دعا کو شرَفِ قَبُولِیَّت عطافرماکر اس دعوت کی طرف اٹھنے والے ہر قدمِ نبی کے صدْقے ہزار ہزار گناہ گاروں کی شفاعت کا وعدہ فرما کرخاتونِ جنّت کو تاجِ کرامت سے نواز دیا۔
اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع