30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)…حضرتِ سیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ رسولِ اَکرَم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بیشک ہر چیز کا ایک دل ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰسین ہے اور جو ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھے گا اس کے لئے دس مرتبہ قرآنپڑھنے کا ثواب لکھا جائے گا۔ (سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب فضائل القران،باب ما جاء فی فضل سورۃ یٰس، ص۶۷۱، الحدیث:۲۸۸۷)
(3)…حضرتِ سیِّدُنا حسان بن عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ سردارِ مکّۂ مکرّمہ،سرکارِ مدینۂ منوّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تَورات میں سورۂ یٰسین کانام مُعِمَّۃٌ ہے، کیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے کو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا کرتی ہے ، اس سے دنیا وآخرت کی بلائیں دُور کرتی ہے اور آخرت کی ہولناکیوں سے نجات بخشتی ہے ۔ اور اس کانام دَافِعَۃ اور قَاضِیَۃ بھی ہے کیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے سے ہر برائی کو دُور کردیتی ہے اور اس کی ہر حاجت پوری کرتی ہے ، جس شخص نے اس کی تلاوت کی یہ اس کے لئے 20 حج کے برابر ہے اور جس نے اس کو سنا اس کے لئے اللہ تعالٰی کی راہ میں ایک ہزار دینار خرچ کرنے کے برابر ہے اور جس نے اس کو لکھا پھر اسے پیا تو اس کے پیٹ میں ہزار دوائیں ، ہزار نُور، ہزار یقین ، ہزار برکتیں اورہزار رحمتیں داخل ہوں گی اور اس سے ہردھوکا اور بیماری نکال دیتی ہے۔ (کنزالعمال، کتاب الاذکار، قسم الاقوال، سورۃ یٓس، ج۱، الجزء الاول، ص۲۹۴، الحدیث:۲۶۸۳)
(4)…حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے روایت ہے کہ حضورِ اَکرَم ،رسولِ محتشم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو شخص ہمیشہ ہر رات سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتا رہا پھر مرگیاتو وہ شہید مرے گا۔ (المعجم الاوسط، بقیۃ ذکر من اسمہ محمد، ج۵، ص۱۸۸، الحدیث:۷۰۱۸)
(5)…حضرتِ سیِّدُناعطاء بن ابو رَباح تا بعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو شخص دن کی ابتداء میں سورۂ یٰسین کی تلاوت کرے گا ،اس کی تمام حاجات پوری کر دی جائیں گی۔ (سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل سورۃ طہ ویٓس، ص۱۰۳۵، الحدیث:۳۴۱۹)
( 6)…حضرتِ سیِّدُنا معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ بیشک حضورِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جوشخصاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے اس سورۂ یس کی تلاوت کرے گا، اس کے پہلے کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، تو تم اس کی تلاوت اپنے مرنے والوں کے پاس کرو۔ (شُعَبُ الایمان، باب فی تعظیم القراٰن، فصل فی فضائل السور والاٰیات، ج۲، ص۴۷۹، الحدیث:۲۴۵۸)
(7)…حضرتِ سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ حضورِ اَکرَم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس مرنے والے کے پاس سورۂ یٰسین تلاوت کی جاتی ہے۔ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اس پر (اس کی رُو ح قبض کرنے میں ) نرمی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع