30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے)۔
ثَانِیاً… (دوسری یہ کہ ایک) دوسری رِوایت یوں ہے کہ اس جناب کو حضرت امِّ ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دائی نے غسْل دیا۔
ثَالِثاً… (تیسری یہ کہ یہاں ) بمعنی امرِ شائع (یعنی چونکہ آپ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم نے غسْل دینے کا حکم فرمایا تھا اس وجہ سے آپ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم کی طرف ہی غسْل دینے کی نسبت کر دی گئی اور عربی کلام میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کام کرنے کی نسبت اس کام کا حکم دینے والے کی طرف کر دی جاتی ہے جیسے) کہا جاتا ہے: بادشاہ نے فلاں قوم سے جنگ کی (حالانکہ بادشاہ خود ہتھیار لے کر جنگ نہیں کرتا بلکہ فوج کو جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس حکم دینے کی وجہ سے جنگ کرنے کی نسبت ہی بادشاہ کی طرف کر دی جاتی ہے ، اسی طرح) حدیث میں آیا: نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے اذان دی یعنی اذان کا حکم دیا۔
رَابِعاً …(چوتھی یہ کہ) اِضافتِ فِعْل بسوئے مُسَبِّب غیرِ مُسْتَنْکَر اور حدیثِ علی ان وُجوہ پر محمول کرنے سے تعارُض مُرتَفِعْ یعنی (بعض دفعہ کسی کام کی نسبت اس کی طرف کر دی جاتی ہے جو اس کام کے کرنے کا سبب ہوتا ہے اور یہ کوئی غیرِ معروف بات نہیں ، خاتونِ جنّت حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو غسْل دئیے جانے کا سببچونکہ امیرُ المؤمِنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم بنے اس طور پر کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے انہیں غسل دیئے جانے کا حکم فرمایا، یا آپ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْمنے غسْل کا سامان مُہَیَّا فرمایا اس بِنا پر غسل دینے کی نسبت آپ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم کی طرف ہی کر دی گئی، چُنانچِہ حضرت سیِّدَتُنا امِّ ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم کے غسل دینے کی رِوایَتوں میں تطبیق اس طرح ہو گی کہ) اُمِّ ایمن (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) نے اپنے ہاتھوں سے نہلایا اور سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حکم دیا یا اَسبابِ غسْل کو مُہَیَّا فرمایا۔
خَامِساً… (پانچویں یہ کہ) مولیٰ علی کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْمکے لئے خصوصِیَّت تھی اَوروں کا قیاس ان پر رَوا (یعنی دُرُست) نہیں ، ہمارے عُلَماء جو شوہر کو غسلِ زوجہ سے منع فرماتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ بعدِ موت بسببِ اِنْعِدامِ مَحَلّ، مِلکِ نِکاح ختْم ہو جاتی ہے (یعنی مرنے کے بعد چونکہ نِکاح کا مَحَلّ ہی ختْم ہو گیا لہٰذا نِکاح بھی ختْم ہو گیا اور جب نِکاح ختْم ہوا) تو شوہر اجنبی ہو گیا۔
اسی لئے منقول ہوا کہ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْمپر حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس (غسْل دینے والے) امْر پر اِعتِراض کیا، حضرت مرتضیٰ (کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم) نے جواب اِرشاد فرمایا: کیا تمہیں خبر نہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اِنَّ فَاطِمَۃَ زَوْجَتُکَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ یعنی فاطمہ دنیا و آخرت میں تیری بی بی ہے۔‘‘
تو دیکھو! اس خصوصِیَّت کی طرف اِشارہ فرمایا کہ یہ رشتہ مُنقَطِع (یعنی ختْم) نہیں یہ جواب نہ فرمایا کہ شوہر کو اپنی عورت کا نہلانا رَوا ہے۔ اس سے اور بھی ثابِت ہوا کہ صحابۂ کِرام (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) کے نزدیک صورتِ مذکورہ میں مذہب، عدمِ جواز تھا (یعنی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے نزدیک مرد کا بیوی کی میِّت کو غسْل دینا ناجائز تھا) جب تو حضرت ابنِ مسعود (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے اِنکار فرمایا اور حضرت (سیِّدُنا علی)مرتضیٰ (کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم) نے اسے تسلیم فرما کر اپنی خصوصیت سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع