30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقیقت تو یہ ہے کہ ’’ظاہر‘‘دل کا نُمائندہ ہے، دل اچّھا ہو گا تو اس کا اثر خارِج میں بھی ظاہر ہو گا لہٰذا پردہ وُہی کرے گی جس کادل اچّھا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی طرف مائل ہو گا، چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہیں : یہ خیال کہ باطِن(یعنی دل) صاف ہونا چاہئے ظاہِر کیسا ہی ہو مَحض باطِل ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ اِس کا دل ٹھیک ہوتا تو ظاہِر آپ (یعنی خود ہی) ٹھیک ہو جاتا۔ (فتاوٰی رَضَوِیّہ، ج۲۲، ص۶۰۵)
اے مری بہنو! سدا پردہ کرو تم گلی کُوچوں میں مت پھرتی رہو
اپنے دَیْوَر جَیٹھ سے پردہ کرو اُن سے ہرگز بے تکلُّف مت بنو
ورنہ سن لو قبر میں جب جاؤ گی سانپ بچھو دیکھ کر چلاؤ گی
(وسائل بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۶۶۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدَہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے وصال سے قبل دو وصیّتیں فرمائیں : (۱)…حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو وصیّت کی کہ میری وفات کے بعد آپ حضرتِ اُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح کر لیں ، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرتِ سیِّدَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی وصیّت پر عمل کیا۔ یہ نکاح زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اِہتِمام سے ہوا۔ (اِکْمَال(مُتَرْجَم)مع مراٰت المناجیح،ج۸، ص۷، مُلَخَّصاً)
(۲)…جب میں دُنیا سے جاؤ ں تو مجھے رات میں دفن کریں تاکہ میرے جنازے پر نامحرم کی نظر نہ پڑے۔ (فتاوٰی رَضَوِیّہ، ج۹، ص۳۰۷)
خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دنیا سے تشریف لے جانے سے قبل وَصِیّت فرمائی، وَصِیّت کسے کہتے ہیں ؟اور اس کے کیا فضائل ہیں ؟آئیے! مُلاحَظہ فرمائیے!
وصِیّت کسے کہتے ہیں ؟
بہار شریعت میں ہے: وصِیّت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بطورِ اِحسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنانا۔ (بہارِ شریعت،وصیت کا بیان، ج۳،حصہ۱۹، ص۹۳۶)
وَصِیّت چار قسم کی ہے: (1)…واجبہ: جیسے زکوٰۃ کی وَصِیّت اور کفَّاراتِ واجبہ کی وصِیَّت اور صدَقہ، صیام وصلوٰۃ کی وصِیَّت (2)…مباحہ: وصیت اغنیا کے لئے(3)… وصیت مکروہہ: جیسے اہلِ فسق و(اہلِ)مَعْصِیَت کے لئے وصیت جب یہ گمان غالب ہو کہ وہ مالِ وصِیّت گناہ میں صرف کرے گا(4)… مستحب: اس کے علاوہ کے لئے وصیت مستحب ہے۔(اَلدُّرُّ المُخْتَار ورَدُّ الْمُحْتار، کتاب الوصایا، ج۱۰، ص۳۵۴)
اس کو آپ اس طرح یاد رکھیں کہ جن حقوق کا ادا کرنا فرض ہے ان کے لئے وَصِیّت فرض ہو گی اور جن حقوق کا ادا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع