30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ آئیے! اس ضِمْن میں ایک ایمان اَفروز خواب مُلاحَظہ فرمائیے ،چُنانچِہ ایک اسلامی بھائی نے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو جو کچھ بتایا اس کا خُلاصَہ یہ ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے خواب میں جنابِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی سعادت ملی، ہمّت کرکے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ کو علمِ غیب ہے ؟ ارشاد فرمایا: ہاں !اس کے بعد سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک آیتِ قرآنی سنائی، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لَب ہائے مبارَکہ سے تلاوت، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوش آوازی اور ادائیگی حروف کا حُسْنِ اُسلوب (یعنی حروف کی اپنے مخارج سے ادائیگی کی خوبصورتی) مرحبا! ایسی عمدہ اور شیریں آواز و قِراٰت میں نے کبھی نہیں سنی،آیت ِشریفہ میں بھول گیا ہوں ،ہاں ! اتنا یا د پڑتا ہے کہ اُس کے آخر میں لفظ ’’بِضَنِیْن‘‘ تھا اس پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے پارہ 30 سُوْرَۃُ التَّکْوِیْر کی آیت نمبر ڈبل بارہ (24) سنائی، ’’ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴) ‘‘ وہ اسلامی بھائی بول اُٹھے، ہاں ! ہاں !یہی آیتِ کریمہ تھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان کو آیتِ کریمہ کا ترجمہ بتایا اور فرمایا کہ یقینا سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت و عنایت سے علمِ غیب ہے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس حِکایت سے کوئی اس وَسوَسے میں نہ پڑے کہ لو بھئی! خوابوں سے علمِ غیب ثابت کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ غیرِ نبی کا دیکھا ہوا خواب تو حجّت (یعنی دلیل) ہی نہیں اَمیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ واقعی ہرمسئلہ خواب سے حل نہیں کیا جاتا، مگر یہاں خواب سے نہیں ، خواب میں عطا کردہ جواب میں بیان کردہ قرآنی آیت سے علمِ غیب کا
ثبوت پیش کیا جا رہا ہے اور وہ آیتِ کریمہ واقعی علمِ غیبِ مصطفٰے پر دَال (یعنی دلیل) ہے۔ لہٰذا ذکر کردہ آیت مع ترجمہ مُلاحَظہ فرمائیے:
وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴) (پ۳۰ التکویر: ۲۴)
تَرجَمۂ کنزُالایمان: اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ۔
اس آیتِ مبارَکہ سے معلوم ہوا کہ مکی مدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غیب بتاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ بتائے گا وہی جس کو علم ہو گا۔ تو بلا شک وشُبہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کی عنایت سے رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم علمِ غیب کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ عاشقِ ماہِ ِرِسالت، اعلیٰ حضرت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت بارگاہِ رِسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممیں عرْض کرتے ہیں :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرود
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
شرحِ کلامِ رضاؔ:
یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کی شانِ عظَمت نشان کے کیا کہنے! شبِ معراج عین جاگتی حالت میں آپ صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع