30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المَدِینہکی مَطْبُوعہ 308 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’ اِسلامی بہنو ں کی نماز‘‘صفْحہ72پرشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اِسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابو بلا ل محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ دُرودِ پاک کی فضیلت نقْل فرماتے ہیں : اِنتِقال کے بعد حضرتِ سیِّدُنا ابوعبّاس احمد بن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر کو اَہلِ شیراز میں سے کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ سرپر موتیوں کا تاج سجائے جنّتی لباس میں مَلْبُوس ''شِیراز'' کی جامِع مسجِد کی مِحراب میں کھڑے ہیں ۔ خواب دیکھنے والے نے عرض کی: مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! میں کثرت سے دُرُود شریف پڑھا کرتا تھا یِہی عمل کام آ گیا کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے میری مغفِرت کر دی اور مجھے تاج پہنا کر داخِلِ جنّت فرمایا۔ (اَلْقَوْلُ الْبَدِیْع،الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ علٰی رسولِ اللہ، ص۱۲۳، ملخصاً)
ہر درد کی دوا ہے صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد
تعویذ ِ ہر بلا ہے صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی لاڈلی شہزادی، خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ’’اَنْتِ اَوَّلُ اَہْلِیْ لُحُوْقًا بِیْ یعنی میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم (وفات پا کر) مجھ سے ملو گی۔‘‘ (حِلْیَۃُ الْاولیاءِ وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَائ، ذکر النساء الصحابیات، فاطمۃ بنت رسول اللہ، ج۲، ص۵۰، الحدیث:۱۴۴۳)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! میرے آقا، دو عالَم کے داتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبر ارشاد فرمائی کہ ’’میرے اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی۔ ‘‘ غیب کیا ہوتا ہے؟ آئیے! سنئے، چُنانچِہ مفسِّرِ شہیر،حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : غیب کے (لفظی) معنٰی غائب یعنی چُھپی ہوئی چیز۔ اصطلاح (مخصوص۔ مرادی معنٰی) میں غیب وہ چیز کہلاتی ہے جو کہ ظاہری باطنی حواس (محسوس کرنے کی قُوّتوں ) اور عقل سے چُھپی ہو یعنی نہ تو آنکھ،ناک، کان وغیرہ سے معلوم ہو سکے اور نہ غوروفکر سے عقل میں آ سکے۔(تفسیرِ نعیمی، ج۱، ص۱۲۷)
مثلاً جنّت ہمارے لئے اس وقت غیب ہے کیونکہ اس کو ہم حَواس (یعنی آنکھ ، ناک ، کان وغیرہ)سے معلوم ہی نہیں کر سکتے۔
حضرتِ سیِّدُنا امام عبدُ اللہ بن عُمَر شیرازی بیضاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’غیب سے مراد پوشیدہ شے ہے کہ حس اس کا ادراک نہ کر سکے (حَواسِ خمسہ یعنی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے نہ جانا جا سکے) اور بداہتِ عقل اس کا تقاضا نہیں کرتی۔‘‘ (تفسیرُ الْبَیْضَاوِی، ج۱، ص۱۸۰)
ایمان افروز خواب
پیاری پیاری اسلامی بہنو! میرے مکّی مدَنی آقا، میٹھے میٹھے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غیب کی باتیں جانتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع