30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ڈھالنے لگی۔
(۱)… اس شخص پر کیا ملامت ہو سکتی ہے جس نے تُربتِ احمد ِ مجتبٰے، محمد ِمصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سونگھاہے کہ وہ رہتی دنیا تک قیمتی سے قیمتی خوشبوؤں کو نہ سونگھے۔ محبوبِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسد ِ اَطہر سے خاک ِتُربت میں بسنے والی خوشبو اُس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوسری خوشبوؤں سے بے نیاز کر دینے والی ہے ۔
(۲)…مجھ پر مصائب وشدائد کی وہ سیاہ راتیں آن پڑی ہیں کہ ان کو دنوں پر ڈالا جاتا تو راتوں میں تبدیل ہو جاتے ۔ (اَلْوَفَا بِاَحْوَالِ الْمُصْطَفٰے (مترجم)، ابواب وصال مصطفیٰ،چالیسواں باب بعد وصال حضرت فاطمہ کی کیفیت، ص۸۳۱)
داغِ مُفارَقَت تو ملا کاش! اب ایسا ہو
رویا کروں فِراق میں زار وقِطار میں
( وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت ، ص۴۰۷)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمَّتمفتی احمد یا ر خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : میِّت پر آواز سے یا صرف آنسوؤں سے رونا جائز ہے بلکہ مردے کے بعض فضائل بیان کرنا بھی درست ہے جیسے حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور پر روتے ہوئے فرمایا تھا: ابّاجان! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنّت میں چلے گئے۔ اب وحی آنا بند ہو گئی وغیرہ۔ ہاں ! اس پر سر یا سینہ کوٹنا، منہ پر تھپڑ لگانا، بال نوچنا، اس کے جھوٹے اَوصاف بیان کرنا جیسے ہائے میرے پہاڑ، ہائے! کالی گھوڑی کے سوار۔ یہ سب حرام ہے کہ نَوحہ میں داخل ہے۔(مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، ج۲، ص۴۹۹)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 1250 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحہ854پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمّد اَمجد علی اَعظَمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : نَوحہَ یعنی مَیّت کے اَوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے رونا جس کو بَین کہتے ہیں ، بالاجماع حرام ہے یوہیں وَاوَیلا، وَامُصِیْبَتاکہہ کے چلاَّنا۔(بہارِ شریعت،کتاب الجنائز، تعزیت کا بیان، ج۱، حضہ۴، ص۸۵۴)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے: نوحہ کرنے والی عورت قیامت والے دن اپنی قبر سے اس حال میں نکلے گی کہ اس کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود ہوں گے اور اس پر خارش کاکُرتا اور لعنت کی چادر ہو گی وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھے چِیْخْتے اور چلاَّتے ہوئے کہے گی: ہائے بربادی۔ مالک عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع