30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّم نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے بلاوے کو قبول کر لیا، ہائے بابا جان! جنّتُ الفردوس آپ کامقام ہو گیا ، ہائے بابا جان! ہم جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو تعزیت دیتے ہیں ۔ (صَحِیْحُ ابْنُ حِبَّان،کتاب التاریخ،ذکر الخبر المدحض۔۔۔الخ ص۱۷۶۵، الحدیث:۶۶۲۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمد یا ر خان نعیمیعَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس روایت کے تحت فرماتے ہیں : سیِّدَہ (فاطمہ) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری، بلکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فِراق پر بے چینی ہے جو بذاتِ خود عبادت ہے۔ نوحہ یہ ہے کہ میِّت کے ایسے اَوصاف بیان کئے جاویں جو اس میں نہ ہوں اور پیٹا جاوے۔ بے صبری یہ ہے کہ ربّ تعالیٰ کی شکایت کی جاوے۔ جنابِ سیِّدَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان دونوں سے محفوظ ہیں ۔ یہ بھی خیال رہے کہ دنیا میں پانچ حضرات بہت روئے ہیں :
{1 }…حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فِراقِ جنّت میں ۔
{3,2 }…حضرتِ سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام و حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا میں ، {4 }…حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فِراقِ رسول میں اور {5}…حضرتِ سیِّدُنا امام زَینُ العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ واقعہ کربلا کے بعد حضرتِ امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کی پیاس یاد کر کے۔
جنابِ سیِّدَہ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی تھیں :
صَبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبُ لَوْ اَنَّھَا
صَبَّتْ عَلَی الْاَیَّامِ صِرْنَ لَیَالِیًا
ترجمہ: مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑیں کہ اگر روزِ روشن پر پڑتیں تو وہ شب ِ تاریک بن جاتے۔ (مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح، کتاب الفضائل والشمائل، باب، ج۸، ص۲۹۱)
دن رات ہِجرِ یار میں آہیں بھرا کروں
رویا کروں فِراق میں زار وقِطار میں
( وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت ، ص۴۰۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وصالِ رسول پر خاتونِ جنّت کی قلبی کیفیّت
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ جب محبوبِ کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم کا وصال ہو گیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دفن کر دیا گیا تو حضرتِ فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مزار پر حاضر ہوئیں ، خاکِ اَقدَس کی مٹھی بھری، آنکھوں پرلگائی، آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور زبانِ اَقدَس، غمِ دِل کو ان الفاظ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع