30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حقوق العباد کے بارے میں کس قدَر محتاط تھے۔ گناہوں سے پاک ہونے کے باوجود فرمایا کہ ’’اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تم پر ہے ، میری طرف سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ کھڑا ہو اور مجھ سے بدلہ لے لے‘‘ا س فرمانِ عالیشان میں ہمارے لئے درس ونصیحت کے کتنے مدَنی پھول ہیں۔ ہم غور کریں کہ ہماری حالت کیا ہے؟ اور ہم لوگوں کے کتنے حقوقپامال کرتے ہیں ؟ ہمارے اَسلافِ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھمْ اَجْمَعِیْن کی عادتِ مبارَکہ تھی کہ وہ حقوق العباد سے بہت ڈرتے تھے خواہ معمولی سی چیز مثلاًکسی کا خلال (دانت کریدنے کا تنکا) یا سوئی ہی ہو تو اس سے بھی ڈرتے تھے۔ خصوصاً جب اپنے اَعمال کا مُحاسَبہ فرماتے تو خوفِ خدا کے سبب بے قرار ہو جاتے کہ ہمارے پاس تو کوئی ایسی نیکی نہیں جسے مخالف کو اس کے حق کے بدلے قیامت کے دن دے کر راضی کیا جائے۔ بسا اَوقات کسی ایک ہی بے انصافی کے عوض ظالم کی تمام نیکیاں لے کر بھی مظلوم خوش نہ ہوگا۔
عام طور پر لوگ بندوں کے حقوق کی اَہَمِّیَّت نہیں سمجھتے حالانکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بہت ہی اہم، نازک اور اس میں کوتاہی سخت تشویشناک ہے۔ بلکہ ایک حیثِیَّت سے دیکھا جائے توحقوق اللہ (یعنی اللہ کے حقوق)سے زیادہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سخت ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والاہے اگر وہ اپنے فضل وکرَم سے چاہے گا تو اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق معاف فرما دے گا مگر بندوں کے حقوق کواس وقت تک معاف نہ فرمائے گا جب تک بندے اپنے حقوق کو معاف نہ کر دیں ۔ لہٰذا بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا معاف کرالینا بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت میں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
حُقُوقُ الْعِباد کی معافی کا طریقہ
میرے آقا، اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حُقوق العباد کی معافی کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : حقوق العباد معاف ہونے کی دو صورتیں ہیں : (۱)… جو قابل ادا ہے ادا کرنا ورنہ ان سے معافی چاہنا۔ (۲)… صاحبِ حق بلامعاوضہ لئے معاف کر دے۔
اور بعض طُرُقِ جامعہ جن سے حُقوق اللہ و حقوق العباد باذنِاللہتعالیٰ سب معاف ہو جاتے ہیں مثلاً (جس سے اُس کا کوئی حق معاف کرانا ہے اس سے اس طرح کہے:) ’’چھوٹے سے چھوٹا بڑے سے بڑا جو گناہ ایک مرد دوسرے کا کر سکتا ہے جان مال عزت آبرو ہر شے کے متعلق اس میں سے جو تیرا میں نے گناہ کیا ہو سب مجھے معاف کر دے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ(مُخَرَّجَہ)، ج۲۴، ص۳۷۳-۳۷۴ ملتقطاً)
مفلس کون…؟
حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پوچھا: ’’کیا تم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع