30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شفیق ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیغامات پہنچا دیئے ، اور ہم تک اس کی وحی پہنچا دی اور اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دی، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری طرف سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس سے بہتر وافضل جزا عطافرمائے جو جزا وہ کسی نبی کو اس کی اُمَّت کی طرف سے دیتا ہے۔حضورنبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تم پر ہے، میری طرف سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ کھڑا ہو اور مجھ سے بدلہ لے لے۔ کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ قسم دی ، پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا ۔ تیسری بار ارشاد فرمایا : اے مسلمانو ں کے گروہ !میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تم پر ہے، میری طرف سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ کھڑا ہو اور مجھ سے قیامت کے دن قِصاص(قِ۔صَا۔صْ) سے پہلے اپنا قصاص لے لے۔ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے ایک بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا عکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکھڑے ہوئے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے پہنچ کر عرض گزار ہوئے: میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان ! آپ بار بار قسم نہ دیتے تو ان میں سے کسی چیز پر اقدام کی جرأت نہ ہوتی۔ ایک غزوے میں ، میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں فتح دی اور اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدد کی، ہم واپس لوٹ رہے تھے کہ میری اُونٹنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُونٹنی کے قریب ہو گئی۔ میں نیچے اُترا تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پنڈلی مبارک کو چُوم کر برکتیں حاصل کروں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شاخ اٹھا کر میرے پہلو میں مار دی ، میں نہیں جانتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جان بوجھ کر ماری یا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُونٹنی کو مارنے کا ارادہ فرما رہے تھے۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ میں لاتا ہوں اس بات سے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں قصداً مارے۔ اے بلا ل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ! حضرتِ فاطمۃ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر جاؤ اور پتلی لمبی شاخ لے کر آؤ۔ حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہاپنے سر پر ہاتھ رکھے پریشانی کے عالَم میں کہتے جارہے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی جان کاقِصاص دیں گے! حضرتِ سیِّدَ تُنا فاطِمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر پہنچ کر دروازہ بجایا اور عرض کی: اے رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی لاڈلی شہزادی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا! مجھے پتلی لمبی شاخ دیجئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نےفرمایا۔ اے بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ! میرے والدِ محترم نے شاخ کیا کرنی ہے؟ نہ تو آج حج کا دن ہے اور نہ ہی کسی غزوے کا!عرض کی: اے سیِّدَہ فاطِمۃُ الزّہراء (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! آپ اس معاملے سے غافل نہ رہئے جس میں آپ کے والد ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دین کو (تکمیل کے بعد) الوداع فرمانے والے اور یہ دنیا چھوڑکر جانے والے ہیں اور اپنی جان کا قِصاص دینا چاہتے ہیں ۔ فرمایا: اے بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ! کس کے دل نے یہ بات گوارا کرلی کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قصاص لے۔ اے بلال (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! تم حسن و حسین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کو اس شخص کے پاس لے جاؤ ، وہ ان دونو ں سے قصاص لے لے ۔حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ(شاخ لے کر) مسجدمیں ( بارگاہ رِسالت میں ) حاضر ہوئے، حضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے شاخ لے کر حضرتِ سیِّدُنا عکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کو پکڑا دی۔ حضرتِ ابو بکر وعُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا یہ منظر دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے عکاشہ! ہم تیرے سامنے کھڑے ہیں ، ہم سے قصاص لے لو اور رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہ لو۔حضورنبیِّ کریمصَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع