30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
)؟ بتایا گیا: انہیں دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور زعفران نے مشغول رکھا (کہ یہ دونوں چیزیں عورتوں کے بھلائی سے غافل ہونے اور اس سے رُوگردانی کرنے کا سبب ہیں ۔ (المرجع السابق)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب بندے
حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ ! تیری مخلوق میں تیرے محبوب بندے کون ہیں تا کہ تیری وجہ سے میں بھی ان سے محبت کروں ؟ اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ہر فقیر (میرا محبوب بندہ ہے)۔ (المرجع السابق، ص۲۳۹)
رُوحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلام کا پسندیدہ نام
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ارشاد فرماتے ہیں : بے شک میں مسکینی سے محبت اور آسائشوں کو ناپسند کرتا ہوں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پسندیدہ نام یہ تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو’’یامسکین‘‘ کہہ کر پکارا جائے۔ (المرجع السابق)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! زہد وفقر کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے خود بھی اِختِیار فرمایا اور اپنے اہلِ بیتِ اَطہار رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیھِم کو بھی اس کے اِختِیار کرنے کی ترغیب فرمائی، چُنانچِہ اس سلسلے میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اپنی شہزادی، خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو زہد وفقر کی تعلیم دینے کے متعددواقعات ذکر کئے گئے ہیں ، جیسا کہ
حُضور کی خاتونِ جنّت کو زُہد کی تعلیم
صحابی ٔ رسول حضرت سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی شہزادی حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی گردن میں پہنا ہوا سونے کا ہار پکڑ کر عرض کی: یہ ابوالحسن (یعنی حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَــــہ الْکَرِیْم) نے مجھے تحفے میں دیا ہے۔ اِمامُ الزّاہِدِین، سیِّدُ الْمَحْبُوْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تربِیّت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا: اے فاطِمہ! کیا لوگوں کے اس طرح کہنے سے تمہیں خوشی ہو گی کہ’’فاطِمہ بنتِ محمد‘‘ کے ہاتھ میں آگ کا ہار ہے؟
یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھے بغیر ہی تشریف لے گئے اس کے بعد اُمُّ السّادات حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے وہ ہار دے کر ایک غلام خریدا پھر اسے آزاد کر دیا۔
جب نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجَّی فَاطِمَۃَ مِنَ النَّار یعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات عطا فرمائی۔(اَلْمُسْتَدْرَک عَلَی الصَّحِیْحَیْن لِلْحَاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،زھد فاطمۃرضی اللہ عنھا، ج۴، ص۱۳۴، الحدیث:۴۷۷۸)اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع