دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shan e khatoon e Jannat | شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

book_icon
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

لاکھوں  بلائیں  کروڑوں  دشمن        کون بچائے بچاتے یہ ہیں

(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)

شرحِ کلامِ رضاؔ:

          حقیقت میں  بخشش فرمانے والی ذات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہی ہے لیکن رَبّعَزَّوَجَلَّ  اپنے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صدْقے ہماری بخشش فرماتا ہے، حقیقت میں  عطا اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی فرماتا ہے اور ہمارے پیارے پیارے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہِ ربُّ العزَّت میں  سفارش فرماتے ہیں ۔

          رَبّ تَعَالٰی مُعْطِی (یعنی عطا فرمانے والا) ہے اور سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَبّعَزَّوَجَلَّ   کی نعمتیں  اس کے بندوں  میں  تقسیم فرماتے ہیں  ، روزی اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ  ہی کی ہے اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے اذْن سے عطا فرماتے ہیں ۔

          اور ہمارے سامنے دنیا وآخرت میں  بے شمار بلائیں  اور دشمن ہیں  جن سے ہمیں  پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سوا اور کون بچا سکتا ہے؟

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!            صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

زُہد کی تعریف

          حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ’’اِحیاء ُ العُلُوم‘‘ میں  ’’زُہد‘‘ سے متعلِّق ارشاد فرماتے ہیں  : اگر زُہد سے مراد ’’مال کے ہونے یا نہ ہونے میں  بالکل رغبت نہ ہونا‘‘ ہو تو یہ کمال کی انتہا ہے اور اگر اس سے مراد ’’مال کے نہ ہونے میں  رغبت ہونا‘‘ ہو تو یہ بھی کمال ہے لیکن پہلے درَجے سے کم۔‘‘ (اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن،کتاب الفقر والزھد،الشطر الاول من الکتاب فی الفقر، ج۴، ص۲۳۴)

زُہد وفقْر کی فضیلت

          پیاری پیاری اسلامی بہنو! ’’فقر کا سب سے بلند درَجہ ’’زُہد‘‘ ہے اور ’’زہد‘‘ ابرار (یعنی نیک لوگوں  ) کا کمال ہے اور اس کو اختیار کرنے والے ’’مُقَرَّبِیْن‘‘ میں  شمار ہوتے ہیں  ، شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زہد وفقر کے فضائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  : میں  نے جنت میں  جھانک کر دیکھا تو اکثر جنّتی (وہ تھے جو دنیا میں  ) فقرا تھے اور میں  نے جہنم میں  جھانک کر دیکھا تو اکثر جہنمی عورتیں  تھیں ۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب فضل الفقر، ص۱۵۸۷، حدیث۶۴۴۹

          ایک دوسری روایت میں  ہے: (جب میں  نے جنت میں  اکثر ’’فقراء‘‘ کو دیکھا تو) میں  نے پوچھا کہ ’’اغنیا (یعنی مالدار) کہاں  ہیں  ؟ بتایا گیا: (مال اکٹھا کرنے کی) تگ ودَو(یعنی کوشش) نے انہیں  روک رکھا ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزھد، ج۴، ص۲۳۸)

          ایک اور روایت میں  ہے: جب میں  نے جہنم میں  زیادہ تر عورتوں  کو دیکھا تو پوچھا: ان کا کیا حال ہے (یعنی یہ کیوں  جہنَّم میں  ہیں  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن