30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دو اور 400 دینار اس شخص کو دے دو اس کے بعد والی ٔ بصرہ تعظیماً خود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ملاقات کرنےپہنچا اور عرض کیا کہ جب بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو کسی چیز کی ضرورت ہوا کرے مجھے اِطِّلاع فرما دیا کریں ، چُنانچِہ انہوں نے 400 دینار لے کر ضرورت کا تمام سامان خرید لیا۔ (تَذْکِرَۃُ الْاولیاء(مُتَرْجَم)، ص۴۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مکی مدَنی سلطان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے غلام کی کس طرح مشکل کشائی فرمائی کہ خواب میں تشریف لا کر اپنی زیارت سے بھی مُشرَّف فرمایا اور حاجت کی چیزیں بھی دِلا دیں نیز اس دُرود شریف پڑھنے والے کا بھی کام بن گیا کہ رحمتِ عالَم، شفیعِ مُعظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنے اس دُرود شریف پڑھنے والے غلام کا تذکِرہ فرمایا یقینا ایک عاشقِ رسول کے لئے یہی بہت بڑی سعادت ہے کہ مکے مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اس کا ذکرِ خیر ہو، جس کا تذکرہ خود سرکارِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمائیں اس کی خوش بختی کا عالَم کیا ہو گا؟
اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ
اے مِرے مشکل کُشا تم پہ کروروں دُرود
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
شرحِ کلامِ رضاؔ:
ہائے افسوس! راستہ پتھریلا ہے، آہ! یہ پاؤں زخموں سے چُور چُور ہیں ، اے میری مشکلوں کو حل فرمانے والے آقا! میری مشکل کُشائی فرمائیے، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے ہمارے پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بے شمار اختیارات عطا فرمائے جس طرح وِصالِ ظاہری سے قبل آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی رہنمائی ومشکل کشائی فرمایا کرتے تھے بعد از وِصال بھی ربِّ قدیر عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اپنے غلاموں کی مشکلیں حل فرماتے ہیں جیسا کہ حضرت سیِّدُنا اِمام ابوعبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی ’’صحیح بخاری شریف‘‘ میں رِوایَت فرماتے ہیں کہ سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات، مَحبوبِ ربُّ الْاَرضِ وَالسَّمٰوٰت، احمدِِ مُجتَبٰی، مُحَمَّدِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَخَازِنٌ وَاللہُ یُعْطِیْیعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ عطا فرماتا ہے اور میں قاسِم (یعنی تقسیم کرنے والا) اور خازِن ہوں ۔‘‘ (صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب قو ل اللہ تعالی فان للّٰہ خمسہ، ص۷۹۸، الحدیث:۳۱۱۴)
اس کی بخشش ان کا صدْقہ دیتا وہ ہے دلاتے یہ ہیں
ربّ ہے مُعْطِی، یہ ہیں قاسِم رِزْق اس کا ہے کِھلاتے یہ ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع