30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے بَطَنِ اقدس پر چار پتھر بندھے ہوئے دکھائے۔ (بَرِیْقَۂ مَحْمُوْدِیّہ، جز۴، ص۶۵، المکتبۃ الشاملۃ)
مالِکِ دین و دُنْیا ہو کر دونوں جہاں کے سروَر ہو کر
فاقے سے ہیں شاہِ دو عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! شکم سیر رہنا اور کھانے کی لذَّتوں سے لطْف اندوز ہوتے رہنا سنّت نہیں بلکہ سنّت بھوک اور فاقے میں ہے اگرچہ پیٹ بھر کر کھانا مُباح یعنی جائز ہے مگر ’’پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ لگاتے ہوئے یعنی اپنے پیٹ کو حرام اور شُبُہات سے بچاتے ہوئے حلال غذا بھی بھوک سے کمکھانے میں دین و دُنْیا کے بے شُمار فوائد ہیں ۔ کھانا مُیَسَّرنہ ہونے کی صورت میں مجبوراً بھوکا رہنا کمال نہیں ، وافِر مقدار میں کھانا موجود ہونے کے باوُجُود فقط رِضائے الٰہی کی خاطِر بھوک برداشت کرنا حقیقت میں کمال ہے اور کثیر فوائد و فضائل کا مُوجِب ہے جیسا کہ
بھوک کے 10 فوائد
(۱) دل کی صفائی۔ (۲) رِقّتِ قلبی۔ (۳) عاجزی و انکساری۔ (۴) آخِرت کی بھوک وپیاس کی یاد۔ (۵) گناہوں کی رَغبت میں کمی۔ (۶) نیند میں کمی۔ (۷) عِبادت میں آسانی۔ (۸)تندُرستی۔ (۹) تھوڑی روزی میں کِفایت۔ (۱۰) بچا ہوا خیرات کرنے کا جذبہ۔ (اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن،کتاب کسر الشھوتین،بیان فوائد الجوع وآفات الشبع، ج۳، ص۱۰۵تا۱۱۰، ملخَّصاً)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدغَزالی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’اَلْجُوعُ رَأْسُ مَالِنَا یعنی بھوک ہمارا بہترین سرمایہ ہے۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں جو وُسْعت، سلامتی، عبادت، حَلاوت اور علمِ نافِع حاصِل ہوتا ہے یہ اللہتبارک وتعالیٰ کے لئے بھوک اور اس پرصَبْر کرنے کے سبب حاصِل ہوتا ہے۔ (مِنْہَاجُ الْعَابِدِیْن،تقوی الاعضاء الخمسۃ، فصل فی رعایۃ الاعضاء الاربعۃ العین۔۔۔الخ، ص۲۲۹)
بھوک سرمایہ بنے میرا خدائے ذُوالجلال!
از طُفیلِ مصطَفٰے! کر بھوک سے مجھ کو نِہال
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُناامام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : پیٹ اور شَرْمْگاہ جہنَّم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس کی اَصْل پیٹ بھر کر کھانا ہے اورعاجِزی واِنکِساری جنّت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس کی جَڑ (یعنی بنیاد) بھوک ہے۔ اپنے اوپر جہنَّم کا دروازہ بند کرنے والا یقیناً اپنے لئے جنّت کا دروازہ کھولتا ہے کیونکہ ا ن دونوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع