30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاقہ کشیٔ فاطمہ اور دُعائے مصطفٰی
حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حُصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی بیٹی کا حال مُلاحَظہ فرمایا کہ شدَّتِ بھوک کی وجہ سے چہرے سے خون ختْم اور رنگ زرد پڑ چکا ہے، حبیبِ خدا، شاہِ ہردوسَرا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو قریب بلایا اور اپنا دستِ پُر انوار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سینے پر رکھ کر بارگاہِ الٰہی میں عرْض کی: ’’اللہُمَّ مُشَبِّعُ الْجَاعَۃِ وَرَافِعُ الْوَضِیْعَۃِ اِرْفَعْ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ترجمہ: اے بھوکوں کو سیر کرنے والے اور پستوں کو بلند کرنے والے پروردگار! فاطمہ بنتِ محمد سے بھوک کی شدَّت اُٹھا لے۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حُصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں : دُعائے مصطفٰے کے بعد میں نے مُلاحَظہ کیا کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے چہرے کی زردی پر خون غالِب آگیا اورپھر کسی موقع پرجب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات ہوئی تو میرے پوچھنے پر بتایا کہ اس واقعہ کے بعد مجھے (شدید)بھوک نہ لگی۔(دَلائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہقی، باب ما جاء فی دعائہ لابنتہ فاطمۃ۔۔۔الخ ج۶، ص۱۰۸، ملخصاً)
اِجابت نے جھک کر گلے سے لگایا بڑھی ناز سے جب دعائے محمد
اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا دُلہن بن کے نکلی دعائے محمد
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
شرحِ کلامِ رضا:ؔ
حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعا نے جب عزَّت وشان سے قدَم آگے بڑھایا توقبولِیَّت نے جھک کر تعظیم دے کر اس کو اپنے گلے لگایا اور مُجِیْبُ الدَّعوات کی بارگاہ سے قبولِیَّت کا شاہانہ تاج دِلوایا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جس ہستی کی دعائیں اس قدَر پُراثَر اور مَقامِ قُبُولِیَّت پانے میں جلد تر ہوں انہیں کس چیز کی کمی؟ لیکن دُنْیا وی و ظاہِری زندگی میں جو پسند کیا وہ یہی کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے دو جہاں کی نعمتیں اپنے ہاتھ میں دے دی ہیں لیکن گزارا اس طرح کیا جائے کہ تاقیامت آنے والی اُمَّت کے لئے صبر و بھوک کی سنّت قائم ہو جائے۔ سیِّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مجدِّدِ دین وملّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں شہنشاہِ کائنات کی مِلکِیَّت و اِختِیاری فقْر کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
مالِکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع