30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد اوّلصَفْحَہ 1442 پر منقول ہے:حضراتِ حَسَنَینِ کریمَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بچپن میں ایک بار بیمار ہو گئے تو امیرُالْمُؤْمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم وحضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطِمہ اور خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فِضَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ان شہزادوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی صِحّت یابی کے لیے تین روزوں کی مَنّت مانی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں شہزادوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو شِفا عطا فرمائی، چُنانچِہ تین روزے رکھ لئے گئے۔ حضرت ِمولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تین صاع جَولائے، ایک ایک صاع (یعنی 4کلو میں سے 160 گرام کم) تینوں دن پکایا، جب اِفطار کا وقْت آیا اور تینوں روزہ داروں کے سامنے روٹیاں رکھی گئیں تو ایک دن مِسکین، ایک دن یتیم اور ایک دن قیدی دروازے پر حاضِر ہوگئے اور روٹیوں کا سُوال کیا تو تینو ں دن سب روٹیاں ان سائلوں کو دے دیں اور صِرف پانی سے اِفطار کر کے اگلا روزہ رکھ لیا۔ (تَفْسِیْرِ خَزَائِنُ الْعِرفان،پ۲۹، الدھر:تحت الایہ:۸، ص۱۰۷۳، ملخصاً)
اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
بھوکے رہ کے خود اَوروں کو کھلا دیتے تھے
کیسے صابِر تھے محمّدکے گھرانے والے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قراٰنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری شہزادی کے گھر انے کے اس ایمان افروز ایثا ر کو پارہ 29 سُوْرَۃُ الدَّھر آیت نمبر 8،9 میں اس طرح بَیان فرمایا ہے:
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹) (پ۲۹، الدھر:۸،۹)
ترجمۂ کنزُالایمان: اور کھانا کھلاتے ہیں اُس کی مَحَبَّت پر مسکین اور یتیم اور اَسیر (یعنی قیدی) کو۔ ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں ،تم سے کوئی بدلہ یا شکر گُزاری نہیں مانگتے۔
سُبْحٰنَ اللہ! اس ایمان افروز حِکایت میں اہلِ بیتِ اَطہار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے جذبۂ ایثار کا کیا خوب اظہار ہے! واقِعی تین دن تک صِرْ ف پانی پی کر روزہ رکھ لینا کوئی معمولی بات نہیں۔ ہم اگر ایک روزہ رکھیں تو اِفطار میں ٹھنڈا ٹھنڈا شربت، کباب سَموسے، میٹھے میٹھے پھل، گرما گرم بریانی اور نہ جانے کیا کیا چاہئے! اس قدَر تنگدستی کے عالَم میں اتنا شاندار ایثار انہیں کا حصّہ تھا۔
اِیثار کی فضیلت میں خود مدینے کے سلطان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے: ’’جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہِش کو روک کر اپنے اوپر(کسی اور کو) تَرجیح دے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔ (کَنْزُ الْعُمَّال،کتاب المواعظ والرقائق والخطب والحکم،الباب الاول فی المواعظ والترغیبات، ج۱۵، ص۳۳۲، الحدیث:۴۳۱۰۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع