30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کاشانہء فاطمہ میں فاقہ کَشی کا عالَم
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 85 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’دُنْیا سے بے رَغبتی اور امیدوں کی کمی‘‘ صفْحہ42 پر ہے: ایک دن حُضور نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں تشریف لائے اور اِرشاد فرمایا: ’’میرے دونوں بیٹے(یعنی حضراتِ حسن وحسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کہاں ہیں ؟‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرْض کی: ’’آج جب ہم نے صبح کی توہمارے گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی توحضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے مجھ سے فرمایا کہ ’’ میں ان دونوں کو کہیں لے جاتا ہوں ، مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارے پاس (بھوک کی وجہ سے ) روئیں گے اورتمہارے پاس انہیں کھلانے کو کچھ نہیں ۔‘‘ پس وہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں ۔‘‘
تو حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اُدھرتشریف لے گئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں پہنچے تودیکھا کہ دونوں شہزادے حوض میں کھیل رہے ہیں اور کچھ بچی ہوئی کھجوریں ان کے سامنے پڑی ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اے علی! کیا میرے بیٹوں کو گرمی کی شدَّت سے پہلے پہلے گھر نہیں لے جاؤ گے؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نےعرْض کی: ’’یارسول َ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آج جب ہم نے صبح کی تو ہمارے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا، اگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھوڑی دیر بیٹھ جائیں تو میں حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لئے یہ بچی ہوئی کھجوریں چُن لوں ۔‘‘ پس حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرماہوگئے اور حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بچی ہوئی کھجوریں اکٹھی کرکے ایک کپڑے میں جمع کیں پھر چل دیئے، ایک شہزادے کو حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اور دوسرے کو حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اُٹھالیایہاں تک کہ ان کوگھر پہنچادیا۔‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر،اسماء بنت عمیس عن فاطمۃ، ج۹، ص۳۷۶، الحدیث:۱۸۴۷۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! نبی کی لاڈلی، آقا کی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی ظاہِری زندگی کس قدَر فاقہ مستی میں اور اس کٹھن دَور کو کتنے صبر وشکر کے ساتھ گزارا، پوری تاریخِ اسلام شاہِد ہے کہ غربت و فاقے بلکہ کسی بھی مشکِل کے بارے میں شِکوَہ و شِکایت کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لب نہ کھلے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ نُبُوَّت کے زیرِسایہ پلیں بڑھیں ، جہاں سے انہوں نے تربیت پائی تھی کہ فقْر، غَنا (یعنی دولت مندی) سے افضل ہے۔ اس بارگاہِ عالیہ کی تعلیمات میں سے ہے کہ صابِر غریب کو روزِ قیامت اُمَرا پر فضیلت حاصِل ہوگی، جیسا کہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 743 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’ جنّت میں لے جانے والے اَعمال‘‘ صفْحہ 672 پر حافِظُ المشرِق والمغرِب حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومحمد شرَفُ الدِّین عبدُ المؤمِن دِمیاطِی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فُقَراکی فضیلت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع