30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ 32 صفْحات پر مشتمل رسالہ بنام ’’ساس بہو میں صلح کا راز‘‘ حاصل کیجئے اور اس میں دیئے ہوئے نسخے پر عمل کیجئے۔
(7)…بے کار شخص شیطان کا آلۂ کار بنتا اور تفکُّرات کے ہجوم میں گِھر جاتا ہے جبکہ گھر کے کام کاج کرنا بے کاری،سستی اور کاہلی کودور کرتا اور شیطانی خیالات وہجومِ تفکُّرات سے محفوظ رکھتا ہے۔
(8)…خود کو جسمانی طور پر اسمارٹ اور ذہنی طور پر چاق وچوبند رکھنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ چیز گھریلو کام کاج کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
(9)…گھریلو کام کاج میں ورزش ہے اور ورزش بیماریوں سے بچاتی اور صحت کی بہاریں لاتی ہے۔
(10)…اگر گھریلو کام کاج تھکا دیں تو سیرتِ فاطمہ کے مطالَعہ اور تسبیحِ فاطمہ کے وِرْد سے اس کا علاج کیجئے۔
(11)…آج کل ڈپریشن اور ٹینشن کی شکایت عام ہے، اس سے بچنے کا بہترین نسخہ مصروفِیَّت ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نورِ نظرِ مصطفٰے، دلبرِ علیُّ المرتضیٰ، راحتِ فاطِمۃُ الزَّہراء حضرتِ سیِّدُنا امامِ حَسَن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والِدۂ ماجِدہ حضرتِ سیِّدہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا کہ رات کو مسجِدِ بَیت کی مِحراب (یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ) میں نماز پڑھتی رہتیں یہاں تک کہ نمازِ فجْرکا وقْت ہو جاتا، میں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو مسلمان مردوں اورعورتوں کے لئے بَہُت زِیادہ دعائیں کرتے سنا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنی ذات کے لئے کوئی دُعا نہ کرتیں ، میں نے عرْض کی: پیاری امّی جان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دُعا نہیں کرتیں ؟ فرمایا: ’’پہلے پڑوس ہے پھر گھر۔‘‘ (مَدَارِجُ النُّبُوَّت (مترجم)، ج۲، قسم پنجم، باب اوّل در ذکر اولاد کرام، ص۶۲۳)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اِس واقِعہ میں اُن اسلامی بہنوں کے لئے کئی نصیحت آموز مدَنی پھول ہیں جو نوافِل تودَرکَنار فرائض سے بھی غفلت برتتی ہیں ، دوجہاں کے تاجدار، دوعالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحِبزادی، خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے تو راتیں عِبادتِ الٰہی میں گزاریں مگر ان کی راتیں غفلت میں گزرتی ہیں ، کبھی ’’گناہوں بھرے چینلز‘‘ کے سامنے’’فلمیں ڈرامے‘‘ دیکھتے، کبھی مہندی کی تقریب میں بے حَیائی کرتے اور کبھی شادی کے موقع پر خوب ڈھول پیٹتے، باجے بجاتے اور ڈانس کرتے گزرتی ہیں ، بے حیائی کو عار سمجھتی ہیں نہ بے پردگی سے خار کھاتی ہیں ، حالانکہ نورِ نگاہِ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پردے کا اس قدَر مدَنی ذِہْن کہ جیتے جی ہی نہیں بلکہ سفرِآخِرت پر گامزن ہوتے وقْت بھی اس کے بارے میں مُتَفَکِّر تھیں اور اس کی پابندی کی تاکید فرمائی، چُنانچِہ
بی بی فاطِمہ کے جنازہ کا بھی پردہ
اَمیرُ الْمُؤمنین مولیٰ مشکل کُشاحضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ فرماتے ہیں : ’’حضرتِ فاطِمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے موت کے وقْت وصِیَّت فرمائی تھی کہ جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو رات میں دفن کرنا تاکہ کسی غیر مرد کی نظر میرے جنازے پر نہ پڑے۔‘‘ (مَدَارِجُ النُّبُوَّت(مترجم)، ج۲، ،قسم پنجم، باب اول در ذکر اولاد کرام، ص۶۲۴)
تمام اسلامی بہنیں دُنیا وآخرت میں کامیابی پانے، باپردہ وباعزَّت زندگی گزارنے اور شرم وحیا کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھنے کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہیں ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع