30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غصّہ کیوں آ رہا ہے! بَہرحال عافیَّت اِسی میں معلوم ہوتی ہے کہ ’’آنسرِنگ مشین ([1]) (Answering machine)‘‘ لگا دی جائے اور اُس میں مَرد کی آواز میں یہ جُملہ بھر دیا جائے: ’’پیغام ریکارڈ (Record) کروا دیجئے۔‘‘ بعد میں مَردوں کے ریکارڈ شُدہ پیغامات گھر کے مرد اپنی سَہولت سے سُن لیا کریں ۔ اسی طرح نامَحرم پیر صاحِب سے لب و لَہجہ قدرے رُوکھا سا ہو۔ آواز لَوچ دار ونرم اور انداز بے تَکَلُّفا نہ نہ ہو۔
اُمَّہاتُ الْمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے مُتَعَلِّق پارہ 22 سُوْرَۃُ الْاَحْزَاب آیت نمبر 32 میں اِرشاد ِربُّ الْعِبَاد ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو! تم اور عورَتوں کی طرح نہیں ہو، اگر اللہسے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو۔(پ۲۲، الاحزاب:۲۳)
سابِقہ رِوایات سے پتا چلا کہ عورت گھر میں یا باہر سرتاپا باپردہ رہے، گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے غیر محرم رِشتہ داروں سے پردہ لازِم ہے، اِسی طرح ضرورتاً گھر سے باہر نکلتے وقْت بھی پردے کا لِحاظ رکھنا اِنتِہائی ضروری ہے لہٰذا
شرعی اِجازت کی صورت میں گھر سے نکلتے وَقْت اسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مَدَنی بُرقع اَوڑھے، دستانے اور جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے، جہاں کہیں غیر مرد وں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چِہرے سے نِقاب نہ اُٹھائے مَثَلاً اپنے یا کسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحَلّہ وغیرہ، نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اُٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے، واضح رہے کہ عورت کے سر سے لے کر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسْم کا کوئی بھی حصّہ مَثَلاًسر کے بال یا بازو یا کلائی یا گلا یا پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اَجنَبی مرد (یعنی جس سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو) پر بلااجازتِ شَرْعی ظاہِر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسامَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جَھلکے یاایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہَیْئَتْ (یعنی شکل وصورت یا اُبھار وغیرہ) ظاہِر ہو یادوپٹّا اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔ میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیْر وبَرَکت حضرتِ علّامہ مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’جو وضْعِ لباس( یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقۂ پَوشِش (یعنی پہننے کا انداز) اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں تو (سِوا) خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے، کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قَطْعی ہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ (مُخَرَّجہ)، ج۲۲، ص۷۱۲)
مری جس قدَر ہیں بہنیں ، سبھی مدَنی بُرقع پہنیں
ہو کرَم شہِ زمانہ مدَنی مدینے والے!
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۸۸۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع