30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دَیْوَر وجَیٹھ، بہنوئی اور خالہ زاد، ماموں زاد، چچازاد وپُھوپھی زاد، پُھوپھا اور خالو سے پردے کی تاکید کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مُجَدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’جیٹھ، دَیْوَر، بہنوئی، پُھپّا (پُھپّھا)، خالو، چچا زاد، ماموں زاد، پُھپّی(پُھپّھی) زاد، خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے مَحض اَجنَبی (یعنی غیر مرد) ہیں بلکہ اِن کا ضَرَر (نقصان) نِرے (یعنی مُطلَقاً) بَیگانے (یعنی پَرائے) شخص کے ضَرَر سے زائد ہے کہ مَحض غیر (یعنی بِالکل ناواقِف) آدَمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ (یعنی بَیان کردہ رِشتے دار) آپس کے مَیل جُول (اور جان پہچان)کے باعِث خوف نہیں رکھتے۔ عورت نِرے اَجنَبی(یعنی مُطلَقاً ناواقِف) شخص سے دَفْعَۃً(فوراً) مَیل نہیں کھا سکتی (یعنی بے تکلُّف نہیں ہو سکتی ) اور اُن(یعنی مذکورہ رشتہ داروں ) سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے (یعنی جِھجَک اُڑی ہوئی ہوتی ہے) لہٰذاجب رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غَیر عَورَتوں کے پاس جانےکو مَنْع فرمایا (جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ اس پر ) ایک صَحابی اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے عرْض کی، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جیٹھ، دَیْوَرکے لئے کیا حُکم ہے؟ فرمایا: ’’جَیٹھ ، دَیْوَر تو موت ہیں ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب النکاح،با ب لایخلون رجل بامراۃ۔۔۔الخ،ص۴۴۳۱،الحدیث:۲۳۲۵ دار المعرفۃ بیروت۔ فتاوٰی رضویہ(مُخرَّجہ)، ج۲۲، ص۷۱۲)
اے مِری بہنو! سدا پردہ کرو تم گلی کُوچوں میں مت پھرتی رہو
اپنے دَیور جَیٹھ سے پردہ کرو اُن سے ہرگز بے تکلُّف مت بنو
ورنہ سن لو! قبْر میں جب جاؤ گی سانپ بچھو دیکھ کر چِلاّؤ گی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عورت کے لئے فون وُصُول کرنے کا طریقہ
اسلامی بہنوں کو چاہئے کہ اگر غیر مردوں کا فون وُصول کرنا پڑ جائے توآواز نرم نہ رکھیں مَثَلاً نرمی کے ساتھ ’’ہیلو ہیلو ‘‘ کہنے کے بجائے رُوکھے اَنداز میں پوچھے: ’’کون؟‘‘ یہاں مُعامَلہ ذرا دُشوار ہے کیونکہ اِمکان ہے کہ سامنے والا گھر کے کسی مرد سے بات کروانے کا مُطالَبہ کرے، اپنا نام وپیغام بَیان کرےاور بات کرنے کا وَقْت وغیرہ پوچھے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدانخواستہ باحَیا اور باعَمَل اسلامی بہن کے بِھنچے ہوئے رُوکھے اندازِ گفتگو کا بُرا منائے، اورشرعی مسائل سے ناواقِف ہونے کے سبب مُنہ پَھٹ ہو تو’’کچھ‘‘ بول بھی پڑے جیسا کہ بعض اسلامی بھائیوں نے اپنا تجرِبہ بَیان کیا ہے کہ نامَحرم عورَتوں سے ضَرورتاً فون پر بات کرنے کی نَوبَت آنے پر ہمارے غَیرنرم اور رُوکھے لہجے پر عورَتوں نے مَعَاذَ اللہ اِس طرح کی باتیں سنا دی ہیں : ( مثَلاً) مولانا! آپ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع